ابنا: سپریم کورٹ کے حکم سے بری ہونے والے لشکر جھنگوی کے سابق دہشتگرد سربراہ ملک اسحاق نے رحیم یار خان ضلع اور اس کے نواحی علاقوں میں اپنی تنظیم سازی کی مہم تیز کر دی ہے۔ گزشتہ روز ایک ریلی کے ساتھ وہ رحیم یار خان کی تحصیل خان پور کٹورہ پہنچا، جہاں شیعہ مخالف نعرہ بازی کی گئی۔ علاقے میں بینرز اور جھنڈے آویزاں کئے گئے جن پر شیعہ مخالف نعرے درج ہیں۔ گذشتہ روز ایک خطاب میں ملک اسحاق نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحابہ کرام کے گستاخوں کے خلاف اپنا جہاد جاری رکھیں گے۔ ملک اسحاق نے مختلف علاقوں کے دورے شروع کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے پورے علاقے میں مذہبی منافرت پھیلنے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ انتظامیہ کی زیر نگرانی ہونے والے مختلف جلسوں میں ملک اسحاق اپنے مشن کو جاری رکھنے کا اعلان بھی کر چکا ہے۔ 24 جولائی 2011ء کو ملک اسحاق نے سندھ میں جامعہ حیدریہ خیر پور سندھ میں دفاع صحابہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعان حیدر کو کافر قرار دیا اور ان کے خلاف کھلے عام جنگ کا اعلان کیا۔ اس وقت ملک اسحاق کا گھر تنظیم سازی کا ہیڈ کوارٹر بن چکا ہے جہاں دن بھر کالعدم تنظیموں کے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اہلیان علاقہ کے مطابق اگر ملک اسحاق کو فوری طور پر لگام نہ دی گئی تو رحیم یار خان کے عوام کیلئے امن و سلامتی سے جینا محال ہو جائے گا۔ ضلع رحیم یار خان میں کالعدم سپاہ صحابہ کے جھنڈے اور بینر لگا دیئے گئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق لشکر جھنگوی بھونگ یونٹ کے صدر محمد علی معاویہ نے شاہ بیگ یونٹ کا دورہ کیا اور شاہ بیگ یونٹ میں کام کرنے والی امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے طلباء اور دشتی بلوچ قوم کے نوجوانوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اپنی مذہبی سرگرمیاں ختم کر دیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کے نتائج بھیانک ہونگے۔ یاد رہے ایلیٹ فورس کی تین گاڑیاں ملک اسحاق کیلئے مختص کی گئی ہیں۔ ضلع بھر میں جلسے جاری ہیں اور ایک مرتبہ پھر کالعدم سپاہ صحابہ کو منظم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ 40 سے زائد پولیس اہلکار اس کی رہائش گاہ پر اس وقت سیکورٹی مامور ہیں جبکہ 50 کے قریب اس کے ذاتی گن مین بھی ہیں جو جدید اسلحہ سے مسلح ہیں۔ علاقہ میں حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب میں پھر سے حالات خراب ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ ملک اسحاق کا تعلق ضلع رحیم یار کے نواحی گاوں ترنڈا سوائے خان سے ہے، ملک اسحاق نے اپنا مشن جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ ملک اسحاق نے خانیوال، بہاولپور اور رحیم یار خان کے مختلف علاقوں میں اپنے خطاب میں کہا کہ وہ عظمت صحابہ کے تحفظ کا مشن جاری رکھیں گے۔ قید و بند کی صعوبتیں اسے اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا سکیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ کافر ٹولہ اگر 24 جولائی کو (استقلال پاکستان کنونشن و دفاع مظلومین ریلی) اسلام آباد میں دھرنا دے سکتا ہے وہ بھی ہر قربانی کیلئے تیار ہیں۔ کوئٹہ، ملتان، ساہیوال، ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر علاقوں میں سینکڑوں بے گناہ افراد کی جان لینے والے، اور مساجد و امام بارگاہوں پر حملے میں ملوث لشکر جھنگوی پاکستان کے سربراہ ملک اسحاق کو سپریم کورٹ نے 14 جولائی کو بری کر دیا تھا اور انہیں کوٹ لکھپت جیل سے بدھ کے روز رہا کر دیا گیا۔ کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی لاہور کوٹ لکھپت جیل اپنے مسلح سیکورٹی گارڈز اور ساتھیوں کے ہمراہ آئے اور ملک اسحاق کا استقبال اور اسکی رہائی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ناموس صحابہ کا دفاع جاری رکھیں گے۔ جبکہ ملک اسحاق نے کہا کہ وہ محمدی مشن جاری رکھے گا۔ مختلف اطلاعات کے مطابق ملک اسحاق ملک بھر میں 800 سے زائد قتل کرنے کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ جیل سے رہائی کے موقع پر کالعدم سپاہ صحابہ کے سینکڑوں کارکن ملک اسحاق کے حق میں نعرہ بازی کرتے رہے اور اس دہشتگرد پر پھول نچھاور کئے جاتے رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
امام حسن مجتبی علیہ السلام پر شادیوں اور طلاقوں کے سلسلے میں لگے تہمتوں اور افترائات اور متعلقہ شبہات و اعتراضات کا جواب