7 اگست 2011 - 19:30

مولانا غلام رضا نقوی پر جھوٹے مقدمات کلئیر ہو چکے ہیں جبکہ کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کا سربراہ ملک اسحاق پنجاب حکومت کی کوششوں سے رہا ہو جاتا ہے اور پنجاب حکومت دہشتگرد ملک اسحاق کے گھریلو اخراجات بھی برداشت کرتی ہے۔

ابنا: گذشتہ سولہ برس سے شیعہ کالعدم تنظیم سپاہ محمد کے سالار اعلیٰ مولانا غلام رضا نقوی پولیس کی قید میں ہیں جن کو بھلا دیا گیا ہے جاری کردہ خصوصی رپورٹ کے مطابق مولانا غلام رضا نقوی کو سن 1996ء میں پنجاب سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ان پر متعدد وہابی سلفی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

مولانا غلام رضا نقوی جو کہ سپاہ محمد کے سالار اعلیٰ تھے اور متعدد وہابی رہنماؤں کے قتل کے الزام میں پولیس کومطلوب تھے گذشتہ سولہ سال سے پولیس کی حراست میں قید ہیں ،مولانا غلام رضا نقوی ٣٠ قتل کے مقدموں میں مطلوب تھے اور ان کی گرفتاری پر بیس لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سپاہ محمد سن 1993ء میں ضیاء الحق کی باقیات کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ہاتھوں انجام پانے اہل تشیع کے قتل عام کے رد عمل میں قائم ہوئی تھی لیکن علماء کرام، اسکالرز وغیرہ سب سپاہ محمد کی حمایت میں نہیں تھے لہذٰ ا علمائے کرام اور ذاکرین نے شیعہ حلقوں میں واضح طور پر کہا کہ اس تنظیم کا ملت جعفریہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سپاہ محمد کا مرکز لاہور کے ایک علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کے نام میں تھا، پولیس نے مولانا غلام رضا نقوی کو گرفتار کرنے کے لئے چار مرتبہ آپریشن کئے تاہم پولیس ان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی جبکہ ٹھوکر نیاز بیگ تاحال کالعدم سپاہ محمد کے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔سوال یہ پیداہوتا ہے کہ جب حکومت نے 80 سے زیادہ شیعہ افراد کے قتل میں ملوث اور سرکاری افسران کے قتل میں ملوث کالعدم دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی کے سرغنے دہشت گرد اسحق کو رہا کر دیا ہے تو پھر مولانا غلام رضا نقوی کا کیا قصور ہے جنہیں سولہ سال سے قید میں رکھا گیا ہے اور ان پر کوئی کیس بھی ثابت نہیں ہوسکا ہے۔مولانا غلام رضا نقوی پر جو جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے تھے وہ کلئیر ہو چکے ہیں جبکہ کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کا سربراہ ملک اسحاق پنجاب حکومت کی کوششوں سے رہا ہو جاتا ہے اور پنجاب حکومت دہشتگرد ملک اسحاق کے گھریلو اخراجات بھی برداشت کرتی ہے یقینا یہ پنجاب حکومت کا جو کہ سن 2008میں قائم ہوئی ہے کا دوہرا معیار ہے اور شیعہ و ملک دشمنی کا عملی ثبوت ہے۔واضح رہے کہ کالعدم دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی کے رہنما ملک اسحاق پر ستر سے زائد مقدمات قائم ہیں جن میں پنجاب حکومت نے براہ راست اسے ضمانت دینے میں مدد فراہم کیہے یہ بات حیرت انگیز ہے کہ پنجاب حکومت نے 80سے زائد قتل میں ملوث اور اغوا برائے تاوان اور پولیس اہلکاروں کو قتل کرنےوالے اس ملک دشمن اور شیعہ دشمن دہشت گرد کو کیوں ضمانت دلوائی ہے ؟یقینایہ سوال ہر ذی شعور انسان کے ذہن کو جھنجھوڑ رہاہے۔.............

/169