ابنا: رہبرانقلاب اسلامی نےاپنےبیانات کےایک حصےمیں اسلامی جمہوری نظام کی قدرواہمیت کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ ملت ایران نےثابت کردیاہےکہ وہ خطرات کامقابلہ کرنےکی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اس کامطلب یہ نہيں ہےکہ کمزوریوں کونظراندازکردیاجائے۔
رہبرانقلاب اسلامی نے گذشتہ بتیس برسوں کےدوران ملت ایران کوپیش آنےوالےخطرات کی یاد دہانی کراتےہوئےان دھمکیوں کامقصداسلامی جمہوری نظام کونقصان پہچاناقراردیاکہ جواسلامی بیداری کاسرچشمہ ہے لیکن رہبرانقلاب اسلامی نےساتھ ہی یہ بھی تاکید فرمائی کہ سازشوں کےباوجود، اسلامی جمہوری نظام نے عوام اورحکام کےایک دوسرےپراعتماد کےسہارےتمام خطرات پرقابوپالیاہے۔ یہ درحقیقت مضبوط پہلو ہے اوررہبرانقلاب اسلامی کےبقول نظام کاپہلےدرجے کامضبوط پہلو ہے۔ کیونکہ اس مضبوط اقدام کےنتیجےمیں آج ایران پابندیوں کےباوجود اپنی ترقی کوجاری رکھےہوئےہےان جملہ کامیابیوں میں ایک مقامی سائنسدانوں کی کوششوں سےسائنسی میدانوں اوراسٹم سیلزمیں کامیابی وپیشرفت ہے۔ ان کامیابیوں نےایران کی حیثیت کوپائدار اور بین الاقوامی سیاست میں اسلامی جمہوریہ ایران کےموثرکردارکومستحکم کیاہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت واقتدارمیں ایسےعالم میں اضافہ ہورہاہےکہ علاقے اور دنیامیں امریکہ سےنفرت بڑھتی جارہی ہے اوراس وقت امریکہ علاقےاورعالم اسلام میں سب سےزیادہ قابل نفرت ملک بن گیاہے۔ اس بنا پررہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے یورپ کےمسائل کی اصلی وجہ ان حکومتوں کی پالیسیوں پرامریکہ اورصیہونی حکومت کےتسلط کوقراردیا اورفرمایاکہ اس مسئلےسےآگاہی کی صورت میں یورپ میں بھی امریکہ کی مقبولیت کم ہوگي اور ایسا جلد ہی ہونےوالاہے۔ اس بناپرملت ایران کےدشمنوں نےاپنی پوری توانائی اسلامی جمہوری نظام کونقصان پہنچانےپرمرکوز کردی ہے تاکہ بزعم خود اسلامی جمہوری نظام کےآئيڈیل بننےمیں روکاوٹ کھڑی کریں ۔سافٹ وار، داخلی فتنہ اور معاشی دباؤ نیزاسلام سےخوف زدہ کرنا وہ جملہ ہتھکنڈےہيں جسےسامراجی طاقتیں اسلامی جمہوری نظام کوکمزور بنانےکےلئےاستعمال کررہی ہیں ۔ ان حالات میں جیسا کہ رہبرانقلاب اسلامی نےحکام کوخطاب کرتےہوئے تاکیدفرمائی کہ ملت ایران کی ترقی اوراستحکام کالازمہ یہ ہےکہ موجودہ حالات کاحقیقت پسندی سےجائزہ لیاجائے اورمثبت اورمنفی پہلوؤں کی صحیح شناخت حاصل کی جائے۔
.............
/169