ابنا: بریگیڈیر جنرل محمد پاکپور نے تہران کے مغرب میں واقع صوبہ زنجان میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ دہشت گرد گروہ پژاک پر تباہ کن وار کئے گئے ہیں کہا کہ سپاہ پاسداران پژاک کے دہشت گردوں کے ہاتھوں شمال مغربی ایران کے سرحدی علاقوں میں پیداکی جانے والی بدامنی کوبرداشت نہیں کرے گی۔ دہشت گرد گروہ پژاک نے ، جس کی امریکہ اور صیہونی حکومت اسلامی جمہوریہ ایران سے دشمنی کی بنا پر مدد و حمایت کرتے ہیں ، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران شمال مغربی ایران کے سرحدی علاقوں میں بدامنی پیدا کی جس کے بعد سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی زمینی فوج نے کامیاب کارروائیاں انجام دے کر پژاک کے بچے کھچے دسیوں دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی زمینی فوج نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران کے شمال مغرب میں واقع پژاک کے اہم ٹھکانوں کو بھی نابود کیا اور کہا ہے کہ پژاک کی مکمل نابودی تک اس کے ٹھکانوں پر حملے جاری رہیں گے۔ پژاک کے دہشت گردوں کی ایران مخالف سرگرمیاں عراق سے انجام دی جاتی ہیں لہذا عراقی حکام کو حقیقت پسندی اور اس دہشت گرد کروہ کے مذموم مقاصد سے آگاہی کے ساتھ اس سے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ اسی بات پر اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ حشمت اللہ فلاحت پیشہ نے تاکید کی ہے اور عراقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عراق میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدام کرے۔ عراقی حکام کو یہ بخوبی پتہ ہونا چاہئے کہ ایران و عراق کے دشمن دہشت گرد گروہ پژاک کے ذریعہ دو طرفہ تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش میں ہیں لہذا عراقی حکام کو اس سلسلے میں ہوشیار رہنا چاہئے۔سرزمین عراق سے انجام دی جانے والی ایران مخالف دہشت گردانہ سرگرمیاں صرف ایرانی عوام کے نقصان میں نہیں ہیں بلکہ ان سرگرمیوں سے عراقی عوام کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اسی لئے دہشت گرد گروہ پژاک کے خلاف عراقی حکام کی شفاف اور ٹھوس پالیسی ضروری ہے۔عراقی کردستان کے حرکت اسلامی دھڑے کے سربراہ احمد ابراہیم نے اس اہم مسئلے کے پیش نظر ریڈیو تہران کی کردی سروس سے پژاک کی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت ، پارلیمنٹ اور عراقی کردستان کی انتظامیہ کو چاہئے کہ سرحدوں ، سرحدی علاقوں کے لوگوں اور پڑوسیوں کی سیکورٹی کو درہم برہم کرنے والے گروہوں کے خلاف ٹھوس اور شفاف موقف اختیار کریں۔ جیسا کہ احمد ابراہیم نے کہا ہے عراقی حکام اس بات کی اجازت نہ دیں کہ پژاک کے دہشت گرد عراقی کردستان کے سرحدی علاقوں سے ایرانی سرزمین پر حملہ کرسکیں۔عراقی حکام کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ پژاک کے دہشت گرد گروہ عراقی کردستان علاقے کے کاشتکاروں کو انسانی ڈھال کے طور پر اور ایران کے خلاف اپنے پروپیگنڈے میں سیدھے سادے لوگوں کو حربے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ علاقے میں پژاک سمیت دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لئے مشترکہ تعاون ، خاص طور سے ، ایران و عراق کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس سلسلے میں دیگر ممالک کے لیت و لعل کو برداشت نہیں کرے گا اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کو اپنا مسلمہ حق جانتا ہے۔.............
/169