31 جولائی 2011 - 19:30

عراق کے شمالی صوبے صلاح الدین میں واقع ایک گاؤں میں ایک خاندان کے افراد کے قتل عام پر عراق کے مختلف قبائل اور اقوام کے رہنماؤں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

ابنا: عراق کے مختلف قبائل و اقوام کے رہنماؤں نے اس قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قابض امریکی فوجیوں کے ہاتھوں عام شہریوں کے قتل عام کو روکاجائے۔ صوبہ صلاح الدین میں ہونے والے قتل عام کے واقعہ پر عراقیوں کے رد عمل کے بعد امریکی فوج نے دعوی کیا ہے کہ یہ واقعہ ایک مطلوب دہشت گرد کو نشانہ بنانے کی وجہ سے رونما ہوا ہے۔ امریکی فوج کا یہ دعوی غیر قابل قبول اور عراق کی قومی حاکمیت کی کھلی خلاف ورزی کا ثبوت ہے۔ امریکی فوج نے عراق پر اپنے آٹھ سالہ قبضے کے دوران دہشت گردوں کی گرفتاری کے بہانے بارہا عام شہریوں کا قتل کیا ہے۔ فابل توجہ بات یہ ہے کہ عراق میں امریکی فوج کے ہاتھوں انجام پانے والی ہر جارحیت کے بعد ایک بھی دہشت گرد کو امریکی نہیں پکڑ سکے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کی گرفتاری کا مسئلہ صرف عراق کا ماحول بگاڑنے کا ایک حربہ رہا ہے۔ امریکہ نے عراق پر اپنے قبضے کے دوران ہمیشہ عراق کے سیکورٹی کے مسائل کو عراق پر قبضے کے جواز کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اب جبکہ بغداد واشنگٹن سیکورٹی معاہدے کے مطابق امریکی افواج کو رواں سال کے آخر تک عراق سے نکل جانا چاہئے لیکن ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکام یہ دعوی کرکے کہ دہشت گرد عراق میں بدستور باقی ہیں عراق میں اپنے فوجیوں کو باقی رکھنے کا راستہ تلاش کرنے کی ایک بار پھر کوشش میں ہیں۔ بعض امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراق کی سیکورٹی کو برقرار رکھنے میں مدد کے لئے عراق میں امریکی افواج کی موجودگي ضروری ہے جبکہ عراق پر آٹھ سالہ قبضے سے ثابت ہوچکا ہے کہ عراق میں رونما ہونے والے بہت سے واقعات میں امریکی حلقے ملوث رہے ہیں۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق سنہ دو ہزار تین یعنی عراق پر امریکہ کے قبضے کے بعد سے اب تک سات لاکھ عراقی مارے جا چکے ہیں۔ ان حقائق کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کونسی سیکورٹی ہے جس کے بہانے امریکی حکام عراق پر اپنا قبضہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ عراقی عوام عراق پر قبضے کو اپنے ملک کے عدم استحکام اور بد امنی کا سبب قرار دیتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ قابض افواج جلد سے جلد ان کے ملک سے نکل جائيں۔ ادھر صدر گروپ نے خبر دار کیا ہے کہ اگر معینہ مدت میں امریکی افواج نے عراق سے انخلا نہ کیا تو عراقی امریکی قابضوں کے خلاف اپنی جدو جہد تیز کردیں گے اور ایسی صورت میں مسلحانہ جدو جہد کا بھی امکان ہے۔............

/169