اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کو نیٹ ذرائع سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق پاراچنار کے مظلوم عوام کی طرف سے ایک پیغام نشر ہوا ہے جس کو مختصر اصلاحات کے بعد صارفین و قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے:
...اہم پیغام ...ہر باشعور و باضمیر انسان کا فرض بنتا ہے، کہ اس انسانی المئے پر مبنی ای میل کو اپنے اپنے فرینڈ لسٹ میں موجود تمام ای میل ایڈریسز بالخصوص دوستوں و رشتہ داروں تک پہنچا کر مظلوموں کی آواز بنیں... ۔کیونکہ ظلم پر خاموشی ظلم میں مدد کے مترادف ہے...پاکستان میں کچھ ادارے ایسے ہیں، بالخصوص نام نہاد آزاد میڈیا و عدلیہ جسے مقدس گائے کا درجہ حاصل ہے اگر کوئی شخص ان پر تنقید برائے اصلاح بھی کرتا ہے،تو یہ ادارے آپے سے باہر ہوجاتے ہیں...لیکن ہم یہاں ان دونوں اداروں کے دوغلے پن اور یکطرفہ پالیسیوں کو منطق و ثبوتوں کے ساتھ پیش کررہے ہیں...کیونکہ ...ہم کل بھی سردار صداقت کےامین تھے ہم آج بھی انکار حقیقت نہ کریں گےچند سوالات و حقائق:۔* پاک افغان سرحد پر واقع اہم جغرافیائی و اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل علاقے پاراچنار کرم ایجنسی کے محب وطن طوری و بنگش قبائل گزشتہ پانچ سالوں سے امریکی بلیک واٹر کے لے پالک درندہ طالبان اور ان کے سرپرستوں کے ظلم و ستم اور غیر انسانی محاصرے و اقتصادی ناکہ بندی کا شکار ہیں، لیکن افسوس صد افسوس پاکستان میں موجود ...مقدس گائیں ... اس انسانی المئے پر خاموش تماشائی ہیں...شاید ان پر درندہ طالبان اور ان کے سرپرستوں کی طرف سے پریشر ہے...یا پھر جان بوجھ کر نام نہاد آزاد میڈیا و عدلیہ کی اکثریت ایسا کر رہی ہیں...حقائق جو بھی ہوں لیکن یہ انصاف کا قتل عام ہی ہے......اہم نوٹ:یہاں ہم میڈیا کے کچھ افراد (آٹے میں نمک کے برابر) کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے پاراچنار کے مظلوم عوام کے انسانی المئے کو واضح کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کام ضرور کیا ہے، ان میں سے بولتا پاکستان کے مشتاق منہاس، نصرت جاوید، کے علاوہ ڈیلی ٹائمز کے ڈاکٹر محمد تقی، آج اخبار پشاور کے شمیم شاہد اور بالخصوص شہید صحافی سلیم شہزاد اور نیوز ون ٹی وی پشاور کے شہید بیوروچیف کامل مشہدی کا کردار اہم ہے، اس کے علاوہ ڈان اخبار، خیبر نیوز ڈان و ٹی وی نے کچھ حد تک یعنی اس مسئلے پر آٹے میں نمک کے برابر توجہ ضرور دی ہے ...لیکن ...مقدس گایوں... کی اکثریت مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں؟؟چند جواب طلب حقائق و مثالیں اور موزانہ:۔۔ ۔پہلے تو ہماری میڈیا یہ بہانہ کر رہی تھی کہ ہمیں فاٹا پاراچنار کے اندر جانے کی اجازت نہیں ... لیکن گذشتہ ۱۰۰ دنوں یعنی تین مہینوں سے زیادہ عرصے سے یوتھ آف پاراچنار کے نوجوانوں نے شدید گرمی کے باوجود اسلام آباد میں میڈیا نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا ہے، جس نے احتجاج کے سو دن (سینچری) مکمل کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے... اس دوران مختلف انسانی حقوْق کی تنظیموں کے نمائندوں اور سیاستدانوں نے کیمپ کا دورہ کیا ... لیکن افسوس ...کہ مقدس گائے نے کوریج نہیں دی... اس دوران یوتھ آف پاراچنار نےگزشتہ ۱۰۰ دنوں میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بیس سے زیادہ بڑی بڑی ریلیاں نکالی ہیں،جن میں حتی کہ ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ہے ... لیکن...مقدس گائے ... نے کوئی کوریج نہیں دی...۔جبکہ یہی مقدس گائے بعض اوقات نان ایشو حتی کہ چند منظور نظر افراد کے احتجاج اور شہزادہ ولیم کی شادی کو کئی گھنٹے تک کوریج دیتی رہی ہے...!؟پاراچنار اور اپر کرم کے طوری و بنگش قبائل نے گذشتہ پانچ سالوں سے درندہ اور خونخوار طالبان کے حملوں حتی کہ وزیرستان، خیبر اور اورکزئی سے آنے والے طالبان لشکر کشیوں کا مقابلہ کر کے حب الوطنی کا ثبوت دیا ہے اور بغیر کسی معاوضے کے قبائلی لشکر کا کام کر رہے ہیں، لیکن میڈیا نے اس نکتے کو چھپایا... جبکہ گذشتہ چند دنوں سے لوئر و ایف آر کرم (جس کا نام بدل کر غیر منظقی طور پرسنٹرل کرم رکھ دیا گیاہے) میں موجود ماسوزئی قبیلے کے نام نہاد امن لشکر کی خبریں خفیہ اداروں کے کہنے پر خوب بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہے جبکہ اسی ماسوزئی قبیلے نے گذشتہ کئی برسوں سے طالبان کو پناہ دے رکھی ہے اور اس علاقے سے سرکاری تنصیبات اور کرم کے پرامن اور محب وطن باشندوں پر حملے ہوتے رہے ہیں جن میں اس قبیلے کے لوگ برابر کے ملوث رہے ہیں... واہ نام نہاد آزاد میڈیا ۔ تیری کیا بات ہے؟؟!فاٹا میں جاری طالبانا ئزیشن و دہشت گردی کی وجہ سے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ میں دیوبندی و بریلوی مکاتب فکر کے لشکر اسلام و انصار اسلام بھی عرصۂ دراز سے آپس میں لڑرہے ہیں لیکن میڈیا نے کبھی رپورٹ نہیں کیا...کہ خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ میں دیوبندی و بریلوی افراد کے درمیان فرقہ وارانہ لڑائی ہورہی ہے ... جبکہ کرم ایجنسی پاراچنار میں طالبان مخالف طوری و بنگش اقوام کا طالبان اور طالبان کو پناہ دینے والے قبائل کے خلاف مزاحمت و دفاع کو فرقہ وارانہ اور شیعہ سنی جنگ قرار دے کر ملک بھر اور دنیا بھر کےعوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے جس ميں مغربی میڈیا خاص طور پر بی بی سی وغیرہ کا کردار بھی اندرونی میڈیا سے کسی طور بھی کم نہیں ہے۔ سوال یہ کہ اگر یہ انصاف کا قتل عام نہیں تو اور کیا ہے؟؟!صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے چند پاکستانیوں کے اغوا کے مسئلے کو دن رات لائیو کوریج دی جارہی ہے تاہم نام نہاد سول سوسائٹی نیز نام نہاد آزاد اور باضمیر میڈیا کو یہ واقعہ نظر ہی نہیں آیا کہ "بالفطرہ مجرمین اور خونخوار طالبان نے ٹل پاراچنار روڈ سے لوئر کرم کے علاقے بگن میں سیکورٹی فورسز کے چیک پوسٹ کے قریب سے چوالیس بے گناہ طوری بنگش مسافرین کو دن دہاڑے اغوا کیا، تین افراد کو اغوا کے وقت بے دردی سے قتل کیا۔ مغویان میں بارہ افراد کو افراد کو شہید کردیا ان کے جسموں کو ٹکرے ٹکڑے کرکے جلا دیا اور باقی افراد کو کئی ماہ تک ایسے قیدخانوں میں رکھا جہاں سیکورٹی فورسز کا آنا جانا روز کا معمول ہے اور پھر ان میں اکثر افراد کو بھاری تاوان لے کر چھوڑ دیا جبکہ پانچ افراد اب بھی پاکستانی قزاقوں یعنی بالفطرہ مجرمین اور خونخوار طالبان کے قبضے میں ہیں... اس مسئلے کے بعد اور پاراچنار کے دیگر مسائل کے حل کے لئے یوتھ آف پاراچنار کا کیمپ جاری ہے... لیکن افسوس ہیں، نام نہاد آزاد میڈیا و عدلیہ ...دونوں مقدس گاییں اس اہم مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے بیٹھی ہیں ؟؟؟ یہ دوغلی پالسی اگر منافقت کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے؟؟! اب آتے ہیں دوسری مقدس گائے نام نہاد آزاد عدلیہ بالخصوص چیف جسٹس کی طرف، دیکھتے ہیں کہ اس کا کیا کردار ہے پاراچنار کے انسانی المئے پر...لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والی حلیمہ بھٹو پر جو پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی اور اس کو رسم و رواج کی طرف سے رکاوٹوں کا سامنا تھا لیکن سما ٹی وی کے نیوز بیٹ پروگرام میں اس مسئلے کی رپورٹ نشر ہوئی تو دوسری مقدس گائے یعنی عدلیہ نے اس کا نوٹس لیا...جو خوش آئند ہے... لیکن کیا سما ٹی وی کے نیوز بیٹ پروگرام و دیگر ٹی وی چینلز کو شدید گرمی کے باوجود اسلام آباد میں میڈیا نیشنل پریس کلب کے سامنے یوتھ آف پاراچنار کے نوجوان کیوں نظر نہیں آرہے جنھوں نے احتجاجی کیمپ لگایا ہے اور احتجاج کے سو دن (سینچری) مکمل کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے؟؟! نام نہاد آزاد میڈیا و عدلیہ ... دونوں مقدس گایوں کو پاراچنار کا محاصرہ نظر کیوں نہیں آتا؟ انہیں پاراچنار میں ادویات کی قلت سے معصوم بچوں کی شہادتیں نظر کیوں نہیں آتیں؟؟؟جب سیالکوٹ میں دو بھائیوں پر پولیس کی موجودگی میں تشدد ہو یا پھر کوئٹہ کے خروٹ آباد میں ایف سی گردی اور چچن باشندوں کا قتل عام ہو یا کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں نوجوان کا بیرحمانہ قتل ہو تو نام نہاد آزاد میڈیا فورا ویڈیوز نشر ہونے مسلسل کوریج دینا شروع کرتی اور نام نہاد آزاد عدلیہ ازخود نوٹس لیتی ہے ... یہ بہت اچھی بات ہے اور ہم اس عمل کے مخالف نہیں جس سے مظلوموں کی دادرسی ہو لیکن ہم نے کئی مرتبہ تمام ٹی وی چینلز کو پاراچنار کے محب وطن طوری بنگش قبائل کے ساتھ درندہ طالبان اور ان کے سرپرستوں اور قاتل و خاموش ایف سی اہلکاروں بالخصوص کرنل مجید و کرنل توصیف کی موجودگی میں ظلم و بربریت کی وٰیڈیوز حتی کہ ایمبولینس پر حملہ اور کانوائے میں موجود لوگوں کو زندہ گرفتار کرنے کے بعد ذبح کرکے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور جلانے کی ویڈیوز مہیا کی ہیں اور یہ واقعات نیچے دئیے ہوئے لنک اور اٹیچمنٹ میں اک بار پھر پیش کررہے ہیں لیکن افسوس صد افسوس نام نہاد آزاد میڈیا و عدلیہ اس ظلم و بربریت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہیں!!!درندہ نما طالبان کی ظلم و بربریت پر مبنی و ڈیو ثبوت اس لنک میں میڈیا و عدلیہ کے نوٹس لینے کے لئےٹیسٹ کیس کے طور پر نیچے دئیے ہوئے موجود ویڈیو لنک پر کلک کرکے دیکھئے...
Taliban Brutaility & the Silent Chief JusticeClick
منجانب: اقوام طوری و بنگش ، اپر کرم