24 جولائی 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران نےجرمنی میں بڑےپیمانےپرپژاک دہشتگرد گروہ کی موجودگي پراحتجاج کرتےہوئےان دہشتگردوں کی گرفتاری اورانھیں ایران کےحوالےکرنےکامطالبہ کیاہے۔

ابنا: ایران کی شمال مغربی سرحدوں کےاندرپژاک دہشتگردگروہ کی سرگرمیاں بڑھنےاور ملت ایران کےخلاف ان کےدہشتگردانہ اقدامات میں اضافےکےبعدایران کی وزارت خارجہ نےتہران میں جرمنی کےسفیرکوطلب کرکےاحتجاج کیا۔اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائےاسلامی کی خارجہ پالیسی اورقومی سلامتی کمیشن کی انسانی حقوق کمیٹی کےسربراہ نےبھی جرمنی کی پارلیمنٹ کےاسپیکرکومخاطب کرتےہوئےاس دہشتگردگروہ کےاراکین کی گرفتاری اورانھیں ایران کےحوالےکئےجانےکامطالبہ کیا۔

پژاک دہشتگرد گروہ کےسرغنہ رحمان حاجی احمدی،گذشتہ چندبرسوں کےدوران جرمن حکومت کی حمایت سے دہشتگردانہ کاروائیوں کوکنٹرول کرتارہاہے اوراس نےبارہا یورپی ممالک کےٹی وی چینلوں کوانٹرویومیں مغربی ایران میں خونریز دہشتگردی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ حاجی احمدی کوسن دوہزاردس میں جب جرمنی کی پولیس نےگرفتارکیااسی وقت اسلامی جمہوریہ ایران نےاس دہشتگرد کوواپس کئےجانےاوراس پرمقدمہ چلانےکامطالبہ کیاتھالیکن حکومت جرمنی نےحاجی احمدی اورپژاک گروہ کےجرائم کی چھان بین اورتحقیقات کےبغیراسےآزاد کردیا۔پژاک دہشتگردگروہ ترکی کی کردستان لیبرپارٹی پی کےکے کی شاخ ہےجومتعدد دہشتگردانہ کاروائیوں کی وجہ سےامریکہ اوریورپی یونین کےدہشتگردوں کی فہرست میں شامل ہے۔ پژاک کودوہزارچارمیں عراق پرامریکہ کےحملےکےبعدمسلح اورمضبوط کیاگیااوراس کےبعد سےاس نےامریکہ اوراسرائیل سمیت اسلامی نظام کےدشمنوں سےوابستہ عناصرکی حیثیت سےعلاقےمیں بدامنی پھیلانےکی کاروائیاں شروع کردیں۔بہت سےشواہد وثبوت کےباوجودجوعلاقےمیں پی کےکے اورپژاک کےدہشتگردانہ اقدامات کی عکاسی کرتےہیں، مغربی ممالک کی حمایت اورمدد سےاپنی کاروائیاں جاری رکھےہوئےہيں۔

یورپی یونین میں پژاک کوایک دہشتگردگروہ کی حیثیت سےپہچانےجانےکےباوجود، پی کےکےکے ٹی وی چینل، اوراس کےبعض ادارےاور تنظیمیں یورپ میں کھلےعام اپنی سرگرمیاں جاری رکھےہوئےہيں اور نہ صرف ان سےمقابلےکےلئےیورپی حکومتوں کی جانب سےکوئی اقدام نہیں کیاجاتابلکہ اسے ان کی مالی حمایت ومدد بھی حاصل ہے۔ اس سےثابت ہوتاہےکہ مغربی ممالک دہشتگردی کےسلسلےمیں دہرا رویہ اختیارکئےہوئےہيں اوراسےہتھکنڈےکےطورپراستعمل کرتےہیں۔

گذشتہ برسوں کےدوران پژاک کےدہشتگرد،ملت ایران کےساتھ کھلی دشمنی کامظاہرہ کرتےہوئے اسلامی جمہوریہ ایران میں متعدد دہشتگردانہ کاروائياں انجام دےچکےہيں جن میں اب تک تین سوسےزيادہ ایرانی شہری شہیدہوچکےہيں۔ اب بھی جرمن حکومت کی مدد سےپژاک کاسرغنہ اپنی انسانیت دشمن سرگرمیاں جاری رکھےہوئےہے۔واضح ہےکہ ایک دوسرےکےسلسلےمیں حکومتوں کی عالمی ذمہ داریوں اورانسانی حقوق وقیام امن کےپیش نظربرلین کوپژاک دہشتگردوں اوراس گروہ کےدہشتگردوں کوپناہ دینےکےجرم میں جواب دہ ہوناہوگا۔ بعض دوسرے یورپی ممالک اورجرمن حکومت کےاندر ایسےگروہ موجود ہیں جوصیہونی حلقوں سےہماہنگی سےاسلامی جمہوری نظام کونقصان پہنچانےکےلئےکسی بھی کوشش سےدریغ نہیں کرتے۔

ایسےعالم میں اگرجرمنی حکومت ان حلقوں کےزیراثرآکرپژاک دہشتگردوں کی حمایت جاری رکھےگی توایران کاعالمی برادری اورعالمی عدالتوں میں دہشتگردوں اوران کےحامیوں کےخلاف شکایت کاحق محفوظ ہے۔...........

/169