21 جولائی 2011 - 19:30

امریکا کی کھلی بھارت نوازی اور اس کو چین کے مقابلے میں ایشیا اور پیسفک خطے کا قائد یا سردار بنانے کی خواہش کے واشگاف اظہار او اس کے لئے ہر ممکن مدد کے واضح اعلان نے اس خطے پر بالادستی کی امریکی خواہش اور منصوبے کو ظاہر کردیا ہے.

ابنا: جس کے بعد اس قدرتی وسائل سے مالا مال اور اہم ترین بین الاقوامی سمندری گزرگاہ والے خطے پر بالادستی کے لئے امریکا اور چین کے درمیان ”سفارتی جنگ“ شروع ہوگئی ہے۔ انڈونیشیا کے ساحلی شہر بالی میں جنوبی مشرقی ایشیا کے ممالک کی تنظیم آسیان کے ساتھی دس ارکان کو چینی نائب وزیر خارجہ نے یقین دلایا کہ ان کا ملک اچھا پڑوسی ہے اور تمام سمندری حدود کے تنازعات اور کشیدگی کو دوستانہ ماحول اور علاقائی مفاد میں حل کرنا چاہتا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن آسیان وزراء خارجہ سے ملاقات اور انہیں چین کے اثر سے نکالنے کے لئے بالی پہنچ گئی ہیں۔ وہ صدر اوباما کے نومبر میں دورہ انڈونیشیا کے لئے راہ ہموار اور ماحول تیار کریں گی اور آسیان ممالک سے رابطوں کو بڑھائیں گی۔ چینی نائب وزیرخارجہ لی ژمین نے اپنے آسیان ہم منصبوں کو یقین دلایا کہ ہم ماضی کو بھول کر مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں ہمارا مستقبل مشترکہ، روشن اور وسیع ہے ہم اچھے دوست ہیں، اچھے دوست چاہتے ہیں، اچھے پڑوسی، اچھے تجارتی پارٹنر ہیں اور آسیان ممالک سے اچھے دوست اور اچھے تجارتی پارٹنر چاہتے ہیں۔ قبل ازیں وزیر خارجہ یانگ ژی چی نے آسیان کے اپنے دس ہم منصبوں کے ساتھ تعاون کے امکانات کی گائیڈ لائنز کی منظوری دی یہ اس لئے اہم ہے کہ جنوبی چینی سمندر پر فلپائن اور ویتنام دعویٰ کرتے ہیں اور چین اس کو تسلیم نہیں کرتا لیکن اب چین نے اس تنازع کو حل کرنے کا یقین دلایا ہے۔ یاد رہے کہ ہیلری کلنٹن نے گزشتہ برس ہنوئی کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ اس سمندری راستے کو تجارت کے لئے کھلا رکھنا امریکا کے مفاد میں ہے اس پر چین نے سخت ردعمل اور شدید ناراضی کا اظہار کیا تھا۔.............../169