20 جولائی 2011 - 19:30

کابل(آن لائن) افغان ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان رہنما ملاعمر جاں بحق ہوگئے ہیں.

ابنا: تاہم طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے اس دعویٰ کی تریدکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاعمر خیریت سے ہیں طالبان کے موبائل فون ہیک کرکے من گھڑت ایس ایم ایس چلایاگیا ہے جو کہ امریکی انٹیلی جنس کی کارروائی ہے۔ افغان ٹی وی تولو نیوز نے بدھ کے روز بریکنگ خبر نشر کی کہ اسامہ بن لادن کے ساتھی اور امریکہ کو انتہائی مطلوب افغان طالبان رہنما ملاعمر اب اس دنیا میں نہیں رہے رپورٹ میںطالبان کے ایک ترجمان قاری یوسف کے حوالے سے بتایاگیا کہ انہوں نے صحافیوں کو ایک ایس ایم ایس کرکے ملاعمر کی ہلاکت کی خبر دی ہے تاہم اس حوالے سے مزید نہیں بتایاگیا ملاعمر کی موت کیسے واقع ہوئی ۔قاری یوسف سے منسوب بیان میں کہاگیا ہے کہ اسلامک امارات آف افغانستان اعلان کرتی ہے کہ ملاعمر اب اس دنیا سے میں نہیں رہے ۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہو۔ دوسری جانب افغان ٹی وی کی رپورٹ پر فوری ردعمل ظاہرکرتے ہوئے طالبان نے اسے من گھڑت خبر قرار دیا۔ طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے نامعلوم مقام سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملاعمر زندہ اور خیریت سے ہیں۔ ان کی موت کی خبر من گھڑت ہے۔ ذبیع اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ امریکہ طالبان کے موبائل فون ہیک کررہا ہے اور طالبان کے موبائل فون ہیک کرکے ملاعمر کے جاں بحق ہونے کا ایس ایم ایس چلایا گیا۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکی انٹیلی جنس کی حرکت قرار دیا ہے اور ملاعمر کے جاں بحق ہونے کاپیغام ان کے اور قاری یوسف کے ماضی میں زیراستعمال رہنے والے نمبرز سے بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ ہم ٹیلی فون نیٹ ورک فراہم کرنے والی کمپنی سے بدلہ لیں گے جبکہ طالبان ترجمان قاری یوسف احمدنے بھی تردید کی ہے کہ انہوں نے اس طرح کا کوئی ایس ایم ایس نہیں کیا تھا۔ انہوں نے بھی الزام عائد کیا کہ طالبان کے موبائل فون ہیک کئے جارہے ہیں اور ان سے منسوب ایس ایم ایس غلط تھا۔ اس طرح کے پروپیگنڈہ کا مقصد افغان عوام کو دھوکہ دینا ہے ملاعمر زندہ ہیں صوبہ قندھار کے ڈپٹی انٹیلی جنس چیف نے عبدالوہاب صالح نے بھی ملاعمر کی ہلاکت سے متعلق رپورٹ کی تصدیق سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے پاس صرف اطلاعات ہیں تاہم انٹیلی جنس ذرائع یا حکومت کو سرکاری سطح پر ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

.............

/169