ابنا: سوموار کو جب سابق صدر کے خلاف دارالحکومت تیونس کی ایک عدالت میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو ان کے وکلاء نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔عدالت کے جج تہامی حافیان نے سابق صدر کوملک میں ان کی عدم موجودگی میں منشیات اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں قصوروار قراردیا ہے۔ان کے دورصدارت کے آخری دنوں میں ان کے قبضے سے تارِیخی نوادرات برآمد ہوئے تھے۔عدالت نے انھیں ان دونوں مقدمات میں ساڑھے پندرہ سال قید اور اٹھہتر ہزار پانچ سو ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
سماعت کے دوران ایک موقع پر سابق صدر کے وکیل نے مقدمے کی سماعت موخر کرنے کی درخواست کی لیکن جج نے یہ درخواست ماننے سے انکار کردیا جس کے بعد وکیل نے مقدمے کا بائیکاٹ کردیا اور کہا کہ اس میں منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے جارہے۔اس کے بعد جج نے سماعت ملتوی کردی۔
اس موقع پر عدالت میں موجود سابق صدر کے مخالفین نے نعرے بازی شروع کردی اور انھوں نے بن علی کے وکلاء سے کہا کہ ''آپ لوگ یہاں سے دفع ہوجائیں ،آپ نے بن علی کا دفاع کرکے تیونس سے غداری کی ہے۔آپ کو بن علی کے ہتھیاروں سے مارے گئے افراد کا دفاع کرنا چاہیے تھے''۔
اس کے بعد جج نے بن علی کے وکلاء کے بغیر ہی مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع کردی اور کارروائی مکمل کرنے کے بعد سابق صدر کو قید کی سزا بھی سنا دی ہے۔سابق صدر کے خلاف مقدمات کی پیروی لبنان سے تعلق رکھنے والے ایک قانونی فرم کررہی ہے۔اس نے آج ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے وکلاء عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ ایک شرمناک انداز میں مقدمے کی سماعت کی جارہی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ آج کا ٹرائل منصفانہ سماعت کی تمام اقدار کی خلاف ورزی ہے۔
تیونس کے سابق صدر اور ان کی اہلیہ لیلیٰ طرابلسی کو غیر قانونی طور پر رقوم اور زیورات رکھنے کے جرم میں گذشتہ ماہ پینتیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جج تہامی حافیان ہی کی عدالت نے سابق صدر کے قبضے سے غیر قانونی طور پر برآمد شدہ غیر ملکی کرنسی، جیولری ، اور تاریخی نوادرات چھپانے سے متعلق الزامات کی سماعت کی تھی۔
بن علی کے خلاف ایک فوجی عدالت میں ریاست کے خلاف سازش اور مظاہرین کے قتل عام کے الزامات میں الگ سے مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ جنوری کے دوسرے ہفتے میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں حکومت کے خاتمے کے بعد سابق صدر اور ان کی اہلیہ لیلیٰ طرابلسی کے خاندان کے تیس سے زیادہ ارکان کو مالیاتی جرائم اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
بن علی اور ان کے خاندان نے دوعشرے سے زیادہ عرصے پر محیط حکومت کے دوران اپنے اثاثوں میں گراں بہا اضافہ کیا تھا۔انھوں نے ہوٹلوں ، بنکوں ،تعمیرات ،اخبارات، ادویہ سازی اور بہت سے دیگر شعبوں اور اداروں کے حصص خرید کرلیے تھے۔تیونس کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ بن علی سے لوٹی گئی دولت کو واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرایا جائے گا۔
چوہترسالہ سابق صدر کے وکلاء نے ان کے خلاف الزامات کی صحت سے انکار کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ استغاثے کی کارروائی دراصل عبوری حکمرانوں کی جانب سے اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے اور وہ گذشتہ چھے ماہ کے دوران ملک میں استحکام لانے میں ناکام رہے ہیں۔
واضح رہے کہ تیونس کے سابق صدرزین العابدین بن علی 14 جنوری کو اپنے خلاف دوہفتے تک جاری رہے ملک گیر عوامی مظاہروں کے بعد سعودی عرب فرار ہوگئے تھے اوران کے دور کی منتخب اسمبلی کو برخاست کردیا گیا تھا۔
بن علی کے ملک سے فرار کے بعد تیونسی شہریوں نے عبوری حکومت کے خلاف کئی روز تک مظاہرے کیے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ عبوری حکومت میں شامل سابق عہدے داروں کو نکال باہر کیا جائے،ان سے قومی خزانے سے لوٹی گئی دولت واپس لی جائے اورملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں تاکہ عوامی انقلاب کے مقاصد پورے ہو سکیں۔
تیونس کی عبوری حکومت سابق صدراور ان کے ساتھیوں سے قومی خزانے سے لوٹی گئی دولت اور اثاثوں کی واپسی کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔عبوری حکومت نے سعودی عرب میں پناہ گزین بن علی اور ان کی اہلیہ لیلیٰ الطرابلسی کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے مگر ان پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔سابق صدراوران کی اہلیہ تیونسی حکومت کو ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے اور رقوم کو غیرقانونی طورپر بیرون ملک منتقل کرنے کے الزامات میں مطلوب ہیں۔