اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا :-
سب سے پہلے سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ سے پوچھتے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں کیا کہنا چاہتے ہین:جنرل مرزا اسلم بیگ نے کہا: یہ بات ناقابل یقین ہے کہ بریگیڈیئر علی خان اور دیگر چار آرمی آفیسرز کو کالعدم تنظیم حزب التحریر سے تعلق کی بنیاد پر گرفتار کیاگیا ہے۔ بلکہ ان لوگوں کی گرفتاری کی کچھ اور وجوہات ہیں جسے موجودہ آرمی قیادت چھپارہی ہے۔ سابق آرمی چیف نے کہا کہ یہ بات ناممکن ہے کہ ایک آفیسر بریگیڈیئر سطح کی پوزیشن حاصل کرلے اوراس کے پاکستان میں ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ تعلقات بھی ہوں۔ کالعدم حزب التحریر سے تعلقات کے حوالے سے جنرل بیگ نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے افسروں کے اسکے ساتھ تعلقات کی بات صرف حقائق چھپانے کے سوا کچھ نہیں۔ علی خان کی گرفتاری کے عوامل کچھ اور ہیں۔ دوسری طرف سے ٹائم میگزین نے لکھا ہے کہ "حزب تحریر بغاوت کیلئے فوجی افسران بھرتی کرنے کی کوشش کر رہی ہے"۔جریدے کے مطابق اس بات میں مبالغہ آمیزی سے کام لیا جاتا ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ فوجی جرنیل امریکا کے ساتھ محاذ آرائی چاہتے ہیں جبکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ پاکستان اور امریکا کے اعلیٰ حکام مشترکہ انسداد دہشت گردی کی ٹاسک فورس بنانے پر راضی ہو چکے ہیں جو پاکستان میں سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے انٹیلی جنس آپریشن کی نگرانی کرے گا۔ جن میں ڈرونز بلوچستان کے شمسی ائیر بیس سے پروازیں نہیں کریں گے بلکہ افغانستان سے جاری رہیں گے۔ امریکی اسپیشل فورسز احتیاط سے کام کریں گی اور افغانستان میں جنگ بندی کے قیام کے عمل میں پاکستان شامل رہے گا۔ مغربی سفارت کار کے مطابق جنرل کیانی اس بات سے متفق نہیں کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی پاکستان کے مفاد میں ہو گی۔ امریکا اور اپنے فوجیوں کی تنقید کے بعد کیانی کو پاکستانی عوام سے بھی تنقید کا سامنا ہے جس میں حزب اختلاف کے سیاستدانوں، سول سوسائٹی اور صحافی شامل ہیں۔ کیانی کی قیادت کا ایک بڑا امتحان دو اعلیٰ سطحی کمیشن بھی ہیں۔ آئندہ ہفتے اس بات کو واضح کریں گے کہ کیانی ادارے کی ساکھ کو بحال کرنے، امریکا کے ساتھ اتحاد رکھنے، اپنے جونیئر آفیسرز کی حمایت حاصل کرنے اور پاکستان کی جمہوریت کو چلانے میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں۔ بریگیڈئر علی کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم کا کہنا ہے کہ ’بریگیڈئر علی کی گرفتاری انتقامی کارروائی ہے‘پاکستانی فوج کے گرفتار ہونے والے بریگیڈئر علی کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل پر عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کی گرفتاری انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہے۔یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے مطابق بریگیڈئر علی خان کے کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرنل انعام رحیم نے کہا کہ یہ الزامات بالکل بے بنیاد ہیں۔ ’میرے مؤکل کی بتیس سال کی سروس ہے اور بتیس سال تک کوئی الزام کسی نے نہیں لگایا اب جولائی میں وہ ریٹائر ہو رہے تھے اور اس بارے میں ان کو ایڈوانس نوٹس دو ماہ پہلے مل چکا ہے۔‘ کرنل انعام نے کہا کہ بریگیڈئر علی خان کی گرفتاری انتقامی کارروائی ہے۔ ’پانچ مئی کو جی ایچ کیو میں ایک کانفرنس کے دوران میرے مؤکل نے ایبٹ آباد کے واقعے کے بارے میں چند سوالات پوچھے تھے، اسی لیے ان کے ساتھ یہ سلوک برتا جا رہا ہے۔‘ان کے بقول بریگیڈئر علی خان کی گرفتاری دیگر افسران کے لیے ایک پیغام ہے تاکہ کوئی اور کھل کر بات نہ کر سکے۔انعام رحیم نے کہا کہ ان کے عزیز و اقارب نے انہیں بتایا ہے کہ بریگیڈئر علی خان نے کانفرنس کے دوران پوچھا تھا کہ اگر یہ بات صحیح ہے کہ اسامہ بن لادن وہاں موجود تھا اور آرمی اور ایجنسیوں کو نہیں پتہ تھا تو پھر ہماری ایجنسیوں اور ان کے سربراہوں کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ اس سوال کا ایک حصہ یہ تھا کہ انھوں نے وہاں ایک تجویز پیش کی کہ لوگوں کا فوج پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے لہذٰا آرمی کے جتنے سینئر افسران ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اثاثوں کو عوام کے سامنے ظاہر کریں اور اپنے اثاثے قوم کے حوالے کردیں، اس سے نہ صرف قوم کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ ہم خود انحصاری کا جانب گامزن ہوسکیں گے۔انھوں نے کہا کہ یہ ہی بات تھی جس کی وجہ سے انہیں فوراً حراست میں لے لیا گیا اور ایبٹ آباد کے واقعے میں کمیشن کی تشکیل کے اعلان کے بعد ان کی گرفتاری کو ظاہر کردیا گیا۔کرنل انعام نے کہا کہ اگر بریگیڈئر علی خان کے شدت پسند نظریات ہوتے تو وہ بہت پہلے ہی سامنے آ چکے ہوتے۔ ان کے بقول جب کوئی افسر ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچتا ہے تو مزید محتاط ہوجاتا ہے۔انھوں نے کہا ’بریگیڈئر علی خان کے والد فوج میں تھے، ان کے بیٹے اور بھائی بھی فوج میں ہیں۔ جس کے اتنے قریبی رشتہ دار فوج میں کام کررہے ہوں تو ایسے آدمی کے بارے میں میں نہیں سمجھتا کہ سوچا جاسکے کہ اس کا شدت پسند تنظیموں کے ساتھ کوئی تعلق ہوگا۔‘انھوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں بدھ کو ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔انھوں نے کہا کہ ان کے اہلِ خانہ کا دو بار ان سے رابطہ کرایا گیا ہے اور باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ بہت پریشان ہیں اور بریگیڈئر علی خان نے بتایا کہ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110