21 جون 2011 - 19:30

استقامت کی بنیاد پر فلسطینیوں کے درمیان قومی اتحاد فلسطینی عوام کی طاقت کا اصل سرچشمہ ہے اور فلسطینی عوام بھی اسی کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن اس کے باوجود فلسطینیوں کا یہ مطالبہ ابھی تک پورا نہیں ہوسکا ہے۔ فلسطین کی نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ اور پی ایل او کے اجارہ داری پر مبنی اقدامات اور ان کا امریکہ اور صیہونی حکومت کی ڈکٹیشن سے متاثر ہونا یہ ایسے امور ہیں جو فلسطینیوں کے قومی آشتی کے مذاکرات کی ناکامی اور فلسطینیوں کے درمیان قومی اتحاد پیدا نہ ہونے کے اسباب ہیں ۔

ابنا:  تحریک حماس کے عالمی تعلقات کے سربراہ اسامہ حمدان نے کہا ہےکہ مغربی کنارے میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور متحدہ قومی حکومت کے وزیر اعظم کے طور پر سلام فیاض کے انتخاب کی ضرورت سے متعلق فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کے حالیہ بیانات قومی آشتی معاہدے کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔ اسامہ حمدان نے مزید کہا کہ محمود عباس امریکہ اور صیہونی حکومت کے دباؤ میں آگۓ ہیں۔ واضح رہے کہ فلسطینی گروہوں حماس اور فتح نے گزشتہ چار مئی کو اپنے اختلافات کے خاتمے کے مقصد سے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں قومی آشتی کے معاہدے پر دستخط کۓ تھے۔یہ معاہدہ متحدہ قومی حکومت کی تشکیل ، آئندہ ایک سال تک انتخابات کے انعقاد ، سیاسی قیدیوں کی آزادی ، پی ایل او کی تشکیل نو اور سیکورٹی کے تمام اداروں کی تشکیل نو تک ان کی نگرانی جیسے امور پر مشتمل ہے۔ حماس تحریک کے ایک سینئر رہنما صلاح البردویل نے محمود عباس کی جانب سے امریکی پالیسیوں کی پیروی کۓ جانے کو قومی آشتی کے مذاکرات کی ناکامی کا سبب قرار دیا ہے۔ صلاح البردویل نے کہا ہےکہ ہماری معلومات کے مطابق محمود عباس نے امریکہ کے دباؤ میں آکر حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کے ساتھ اپنے مذاکرات ملتوی کۓ ہیں۔ واضح رہےکہ طے شدہ پروگرام کے مطابق رواں ہفتے میں متحدہ قومی حکومت کی تشکیل کے بارے میں حماس اور فتح کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات ہونے والے تھے۔ فلسطین کے خبررساں ادارے نے بھی فلسطینی اخبار الہدف کے حوالے سے رپورٹ دی ہےکہ محمود عباس نے صیہونی حکومت کی دھمکیوں کی وجہ سے خالد مشعل سے اپنی ملاقات ملتوی کردی ہے۔ الہدف نے لکھا ہےکہ امریکہ بھی سلام فیاض کو متحدہ قومی حکومت کا وزیر اعظم بنانے کے لۓ محمود عباس پر دباؤ ڈال رہاہے ۔ عوامی محاذ براۓ آزادی فلسطین نے بھی محمود عباس پر قومی آشتی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا ہے۔ عوامی محاذ براۓ آزادی فلسطین کے بیان میں آيا ہے کہ محمود عباس کی جانب سے متحدہ قومی حکومت کے وزیر اعظم کے لۓ سلام فیاض کے نام کی شرط ایک امریکی اور صیہونی شرط ہے ۔ اور یہ شرط قومی آشتی کے معاہدے کے منافی ہے۔ عوامی محاذ براۓ آزادی فلسطین نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ محمود عباس کا یہ بیان کہ مسلح جد و جہد فلسطینیوں اور ملک کی تباہی و بربادی کا باعث بنی ہے ، شہدا کے خون کی بے حرمتی اور ملت فلسطین کی فداکاری کو نظر انداز کرنےکے مترادف ہے ۔ محمود عباس نے صیہونی حکومت کے خلاف استقامت کے جاری رہنے کی مخالفت کرتےہوۓ اس غاصب حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطینی عوام نے محمود عباس کے اس موقف پر شدید تنقید کی ہے ۔
 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت