21 جون 2011 - 19:30

صدر آصف علی زرداری، وزیر تیل و قدرتی وسائل، ڈاکٹر عاصم حسین، وزیر داخلہ رحمن ملک اور وزیر پانی و بجلی، سید نوید قمر اس کانفرنس میں صدر پاکستان کے ساتھ اس ملک کی نمایندگی کررہے ہیں۔ سعودی عرب نے پاکستان کو اس کانفرنس میں شرکت کی مخالفت کی تھی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، حکومت پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ صدر زرداری ـ آل سعود کے دباؤ اور مداخلت کے باوجود ـ ایک اعلی سطحی وفد کے ہمراہ تہران میں منعقد ہونے والی انسداد دہشت گردی کی عالمی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔ایک اعلی پاکستانی اہلکار نے ایکسپریس ٹربیون سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آل سعود کی مخالفت کے باوجود تہران میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کررہا ہے اور اس نے اس سلسلے میں سعودی مداخلت کو یکسر مسترد کیا ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیوں کی وجہ سے یورپی ممالک اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرسکیں گے اور آل سعود کی قیادت میں قدامت پسند عرب ریاستیں بھی ایران کی طرف سے عرب ممالک میں ڈکٹیٹرشپ اور مطلق العنان شخصی حکومتوں کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریکوں کی حمایت کو بہانہ بنا پر اس کانفرنس میں شرکت نہیں کررہی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق صدر پاکستان کانفرنس کے باقاعدہ آغاز سے قبل ایران سے پاکستان آنے والی گیس پائپ لائن کے 6/7 ارب ڈالر لاگت کے منصوبے اور ایران کی جانب سے پاکستان کو بجلی کی فراہمی کے سلسلے میں ایران کی تجویز پر اپنے ایرانی ہم منصب سے بات چیت کریں گے۔ گیس منصوبے پر عملدرآمد ہونے کی صورت میں پاکستان 2014 سے توانائی کی اپنی ضروریات اسی منصوبے سے پوری کرسکے گا۔ادھر ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن کے منصوبے کو شدید ترین امریکی مخالفت کا سامنا ہے اور اگر امریکی دباؤ پھربھی مؤثر واقع ہوجائے تو یہ اہم اور اسٹریٹجک منصوبہ ـ جو پہلے ہی کئی سال کی تأخیر کا شکار ہوا ہے ـ مزید تأخیر سے دوچار ہوسکتا ہے۔ منصوبے کی تحت ایران کو اپنی سرزمین میں پاکستان کی سرحد تک 11 سو کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھانی تھی اور اس نے اپنے حصے کا کام تقریبا مکمل کیا ہے اور ایران میں ایک ہزار کلومیٹر کی پائپ لائن مکمل ہوچکی ہے۔ایران نے پاکستان کو سستی بجلی فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے اور بجلی کے منصوبے پر گیس پائپ لائن منصوبے کے فوراً بعد عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔نیز ایران نے پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ گھنٹے (MWh) بجلی سبسیڈائزد قیمت پر فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے [لیکن ایران کی ان سخاوتمندانہ تجاویز اور ایران سے اتنے عظیم تحائف قبول کرنے کے لئے امریکی حکومت کی اجازت لینا ضروری ہے اور وہ پاکستان کے "اسٹریٹجک پارٹنر" (؟!) کی حیثیت سے عام طور پر پاکستان کے لئے ایسی چیزین مناسب نہیں سمجھتا کیونکہ کمزور اور محتاج پارٹنر زیادہ آسانی سے Do More کے سامنے سرتسلیم خم کیا کرتا ہے!]۔[عجیب تر یہ کہ غلام بھی آج کل تصور کرتے ہیں کہ بعض ممالک ان کے غلام ہیں اور امریکہ اور اسرائیل کے یہ نوکر پاکستان کو اپنا نوکر سمجھتے ہیں چنانچہ] آل سعود کی حکومت نے گذشتہ مہینے ریاض میں پاکستانی ناظم الامور کے توسط سے حکومت پاکستان کے لئے ایک "فرمان" بھجوایا ہے کہ "پاکستان کو تہران کانفرنس میں شرکت نہیں کرنی چاہئے"۔آل سعود نے پاکستان کے سفارتکار سے کہا تھا کہ "اگر پاکستان کو انسداد دہشت گردی کانفرنس میں شرکت کرنی ہے تو بہتر ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ریاض میں منعقد ہونے والی ایسی ہی کانفرنس میں شرکت کرسکتا ہے"۔آل سود کی حکومت کے اہلکاروں نے پاکستانی سفارتکار کے ساتھ ملاقات میں اپنی ہرزہ سرائیاں جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ "ایران یہ کانفرنس تنہائی سے نکلنے کے لئے منعقد کررہا ہے"۔یادرہے کہ آل سعود کی حکومت عالمی طور پر دہشت گردی کی حمایت کرنے والی حکومتوں میں شمار ہوتی ہے اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ تہران میں منعقدہ کانفرنس سالانہ کانفرنس ہے؛ پہلی کانفرنس گذشتہ سال منعقد ہوئی تھی اور یہ اس سلسلے کی دوسری عالمی کانفرنس ہے۔ اس کانفرنس میں دہشت گردی کی اصل جڑوں پر بحث ہوتی ہے اور دہشت گردی کے اصل حقائق سے پردہ اٹھایا جاتا ہے اور دنیا والوں کو بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردی کی بنیاد امریکہ اور یورپی ممالک نے رکھی ہوئی ہے اور اسلام اور مسلمانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کانفرنس سعودی عرب میں منعقد ہوگی تو دہشت گردی کے میزبان انسداد دہشت گردی کی کانفرنس کے بھی میزبان ہونگے اور اس کانفرنس میں امریکہ اور یورپی ممالک بھی شرکت کریں گے جو دہشت گردی سے اپنے مفادات حاصل کیا کرتے ہیں اور کسی کو بھی توقع نہیں ہے کہ ایسی کانفرنس میں حقائق کی طرف کوئی اشارہ کیا جاسکے۔پاکستان میں پرو امریکہ طالبان کے آل سعود سے دوستانہ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ انہین ہر قسم کی امداد امریکہ، بعض پڑوسی ممالک اور آل سعود کی طرف سے آتی ہے چنانچہ تہران کانفرنس میں پاکستان کی شرکت ویسے بھی آل سعود کے فائدے میں نہیں ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس کانفرنس میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی جائے کہ عراق، پاکستان، لبنان، شام، مصر، یمن، بحرین اور بعض دیگر ممالک میں دہشت گردی کے پیچھے آل سعود کا ہاتھ ہے اور اس سلسلے میں ناقابل انکار ثبوت بھی فراہم کئے جائیں۔ تہران کانفرنس میں پاکستان اور افغانستان سمیت چھ ممالک کے صدور اور کئی وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ شرکت کررہے ہیں اور یہ کانفرنس شرکاء کو دہشت گردی کے حقیقی اسباب و عوامل پر تبادلہ خیال کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی راہ میں موجودہ رکاوٹوں پر بحث و مباحثہ کرنے کے مواقع فراہم کرے گی۔دریں اثناء پاکستانی سینیٹر "طارق اعظم خان" نے ارنا سے کہا ہے کہ صدر پاکستان تہران کانفرنس میں پاکستان کی مظلومیت اور دہشت گردی کا شکار پاکستان کے بے گناہ عوام کی صدا دنیا والوں کو پہنچائیں گے۔ اور شرکاء کو بتائیں گے کہ 11 ستمبر کے بعد سے اب تک پاکستانی عوام کو کیا کیا مصائب جھیلنے پڑے ہیں اور ہمارے ملک کو دہشت گردی کی وجہ سے کیا کیا مشکلات اٹھانی پڑی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان دو برادر ممالک ہیں اور دونوں مل کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے مختلف ٹولے ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی مشترکہ کاروائیاں کرکی ان دو برادر ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں تاہم یہ دو ممالک مشترکہ کوششوں سے ان کے مذموم منصوبے ناکام بنائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ صدر زرداری کے دورہ تہران کے  دوران ایران اور پاکستان کے درمیان تعاون کی سطح کو وسعت دے سکتے ہیں اور دو ملکوں میں مشترکہ سرمایہ کاری سے صنعتی منصوبوں کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا امریکہ ایران اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے کسی بھی منصوبے سے خوشنود نہیں ہوتا اسی لئے امریکی حکمران پاکستان کے سیاستدانوں پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ ایران کے قریب نہ جائیں۔انھوں نے کہا کہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور اگر پاکستان توانائی کی ضروریات ایران سے پوری کرنا شروع کرے تو اسے دور افتادہ ملکوں سے تیل، گیس اور بجلی خریدنے کے اضافی اخراجات سے بھی چھٹکارا ملے گا۔ طارق اعظم خان نے کہا کہ پاکستان کو گیس کی شدید کمی کا سامنا ہے اور اسے اپنی یہ کمی پوری کرنے کے لئے ایران سے بہتر کوئی بھی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے اور اس مسئلے کے لئے بہترین راہ حل ایران سے پاکستان تک گیس پائپ لائن کے منصوبے پر عملدرآمد کرنا ہے۔انھوں نے کہا: جب ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے اور گیس کے ذخائر کے حوالی سے یہ دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جو کئی ممالک کی گیس کی ضروریات بھی پوری کررہا ہے تو ہم کیوں بیرونی دباؤ قبول کریں اور گیس کی فراہمی کے لئے اضافی اخراجات برداشت کریں اور ناممکن راستوں پر چلیں؟۔اس سے قبل گذشتہ مہینے ایران کے دارالحکومت تہران میں "اتحاد برائے انسداد دہشت گردی" کا اجلاس منعقد ہوا جس میں 400 اندرونی اور بیرونی دانشوروں اور ماہرین نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا مقصد دنیا میں دہشت گردی کی بیخ کنی کی روشوں کا جائزہ لینا تھا۔ ...................../110

- بحرین کی سفاک حکومت کویونسکو اجلاس کی صدارت سونپےclickجانےپراحتجاج/ آپ بھی احتجاج ریکارڈ کرائیں

-

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت