20 جون 2011 - 19:30

واشنگٹن…امریکی سائنسدان مستقبل میں جنگ کی نوعیت تبدیل کرنے کے لیے ایک تحقیقی مشن پر کام کر رہے ہیں،منصوبے کے مطابق مستقبل کی لڑائیوں میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی اور موجودہ ڈرونز کے بجائے چھوٹے پرندوں اور کیڑے مکوڑوں جیسے ننھے منے کھلونا نما ڈرون طیارے استعمال کیے جائیں گے۔

ابنا: امریکی اخبار کے مطابق سائنسدان انتہائی چھوٹے ڈرون طیارے بنانے کا تحقیقی کام اس مقام سے صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر کر رہے ہیں جہاں بیسویں صدی کے اوائل میں رائٹ برادران نے پہلے ہوائی جہاز کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔اس وقت افغانستان میں استعمال کیا جانے والا سب سے چھوٹا ڈرون طیارہ تین فٹ لمبا ہے۔چھوٹے ڈرون طیارے بنانے کا انقلابی قدم جنگ میں ڈرون طیاروں کی کامیابی کا تناسب پیش نظررکھ کر اٹھایا گیا ہے۔امریکی دفاعی ماہرین سمجھتے ہیں کہ ڈرون کے ذریعے لڑائی نے امریکیوں کی زندگی محفوظ بنا دی ہے۔نئے ڈرون طیارے شمع کے گرد منڈلانے والے پتنگوں سے لے کر عقاب کی جسامت کے ہو ں گے،جن کا سراغ لگانا دشمن کے لیے انتہائی مشکل ہو گا، انھیں دشمن کو ہلاک کرنے کے علاوہ جاسوسی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ رپورٹ کے مطابق ننھے منے طیاروں میں کیمرے بھی نصب ہوں گے۔باوجود اس کے کہ امریکا کے پاس اس وقت تقریباّ سات ہزار ڈرون طیارے ہیں پینٹاگون نے آئندہ بجٹ میں ڈرون ٹیکنالوجی کے لیے پانچ ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت