ابنا: کوئٹہ میں ڈاکٹرزپرپولیس تشدد اورگرفتاریوں کے خلاف ڈاکڑوں نے کوئٹہ میں تمام سرکاری سمیت تمام نجی ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کا سلسلہ جاری ہے اس دوران ہسپتالوں میں او پی ڈیز سمیت شعبہ حادثات اور دیگر شعبوں میں کام مکمل طور پر بند ہے۔ سینئررپروفیسر ڈاکٹرز اور ینگ ڈاکٹروں نے سول ہسپتال کے شعبہ حادثات کے باہر ٹینٹ لگا کر عوام کو ایمر جنسی سروسز دے رہے ہیں جبکہ ہسپتال کی ایمرجنسی کو تالا لگا دیا گیا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر عبدالصمد پائنزئی سمیت دیگر گرفتار ینگ ڈاکٹرز نے احتجاجا تھانوں میں بھوک ہڑتال شروع کردی۔ ڈاکٹر عبدالصمد پائنزئی نے جیو نیوز کو بتایا کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر ہمایوں عزیز کرد نے ملاقات کی اور ہمارے مطالبات سنے تاہم اب تک کسی صوبائی وزیر یا اعلی حکام نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ جب تک ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جائیں گے ہڑتال کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انھوں نے بتایا کہ آج صوبے بھر کے ینگ ڈاکٹرز کی جنرل باڈی کا اجلاس ہو گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا دوسری جانب کوئٹہ میں ڈاکڑوں کے احتجاج کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز