13 جون 2011 - 19:30

لاہور…لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اعجاز احمد چوہدری نے نشتر کالونی میں جعلی پولیس مقابلے سے نوجوان کی ہلاکت کے معاملے پر ریمارکس دیئے کہ لاہور کو خروٹ آباد اور کراچی نہیں بننے دیا جائے گا۔

ابنا: آئی جی پولیس پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ کہ شہباز بٹ کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت پر ایک ڈی ایس پی سمیت 4 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا گیا آئی جی پولیس پنجاب نے عدالت کو یقین دلایا کہ اس معاملہ کی قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے گی اور ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے گی دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ جعلی پولیس مقابلوں میں بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں کو روکا جائے اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو لوگ اصلی مقابلوں پر بھی اعتماد نہیں کریں گے چیف جسٹس نے کہا کہ عوام کی پولیس کے خلاف شکایات کی داد رسی کے لئے ایک موثر اور مستقل نظام اپنایا جائے۔عدالت نے مزید کارروائی 15 روز کے لئے ملتوی کرتے ہوئے تفتیش سے متعلق عدالت کو آگاہ رکھنے کی ہدایت کی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت