9 جون 2011 - 19:30

کراچی میں نہتے نوجوان کو سرعام گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے واقعے میں ملوث صرف دو اہلکاروں کو مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ابنا: اس دلخراش اور لرزہ خیز واردات کے دیگر کردار کہاں گئے اور کون کس کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے؟
کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینظیر بھٹو شہید پارک میں نوجوان سرفراز کے سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں بہیمانہ قتل نے پوری قوم کو دہلا کر رکھ دیا۔
وڈیو فلم میں نظر آنے والے عبداللہ شاہ غازی رینجرز کے 6 اہلکاروں کے علاوہ بھی پولیس اہلکار اور ان کے مخبر سمیت کئی اہم کردار اس بہیمانہ واردات میں ملوث ہیں لیکن تاحال صرف دو رینجرز اہلکاروں کو قانونی کارروائی میں شامل کیا گیا ہے۔
متعلقہ افسران کے دعوے اور بیانات اپنی جگہ لیکن موجودہ صورتحال میں ان کی معاملات سے بچنے بچانے کی ماضی کی روش کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے:
پہلی ایف آئی آر کے مطابق مقتول سرفراز مبینہ طور پر سی آئی ڈی پولیس کے اہلکار عالم زیب اور اس کی فیملی کو لوٹ رہا تھا۔ ایسے میں افسر خان مدعی کیوں بنا؟
اس کارروائی کا اہم کردار سی آئی ڈی اہلکار عالم زیب تمام کارروائی میں کہیں بھی شامل کیوں نہیں؟
نوجوان کو جعلی مقابلے میں رینجرز اہلکاروں نے قتل کیا۔ اس اہم کارروائی کا مدعی افسر خان ہی کیوں بنا؟
واقعے کے بعد سے افسر خان کہاں چلا گیا؟
نوجوان کو بہیمانہ طریقے سے بالوں سے پکڑ کر لانے کے بعد رینجرز اہلکاروں کے حوالے کرنے اور اسے مارنے کے لئے اکسانے کے بعد واقعے کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے والے اس اہم کردار کے خلاف اب تک کوئی کارروائی سامنے کیوں نہیں لائی گئی؟
سرفراز شاہ اپنی پستول کے نقلی ہونے کا واویلا کرتا رہا اور نہ ہی اس نے فائرنگ کی ایسے میں مقابلے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیسے کرلیا گیا؟
سرفراز کے پاس تو کھلونا پستول تھی تو پھر زیر دفعہ 13 ڈی اصلی پستول کی برآمدگی کا مقدمہ کیسے درج ہوا؟
بوٹ بیسن تھانے کے ڈیوٹی افسر سب انسپکٹر ذوالفقار علی کو اصلی پستول کس نے فراہم کی؟
سب کچھ جانتے ہوئے پولیس اس واقعہ میں فریق کیوں بنی؟
وڈیو فلم میں سرفراز کو قتل کرنے میں تمام رینجرز اہلکار پیش پیش دکھائی دے رہے ہیں ایسے میں تمام 6 اہلکاروں کو پولیس کے حوالے کیوں نہیں کیا گیا؟
سوال یہ بھی ہے کہ جب لٹنے والا پولیس اہلکار ہے تو سامنے تھانہ ہونے کے باوجود سرفراز کو پولیس کی بجائے رینجرز کے حوالے کیوں کیا گیا؟
ابھی تو معاملہ گرم ہے اور میڈیا کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی نظریں اس کیس پر ہیں، ایسے میں پراسرار کرداروں کی یہ قانونی چالبازیاں اس گھناؤنی واردات کے کچھ کرداروں کو بچانے کے لئے سرگرم نظر آرہی ہیں۔۔
کلفٹن کے اس سانحے کے ذمہ داروں کو تو شاید سزا مل جائے مگر کیا عوامی خدمت اور حفاظت پر مامور ان فورسز کے اہلکاروں کی انسانیت دشمن تربیت اور مجرمانہ کردار کے ذمے دار افسران کی بھی پکڑ ہوگی؟

بشکریہ از جنگ
۔۔۔۔۔۔
جنگ رپورٹر نے اہم سوال اٹھائے ہیں لیکن اصلی سوال تو یہ ہے کہ جب دہشت گرد عوام کو قتل کرتے ہیں تو وہ کیونکر "فرار ہونے میں کامیاب" ہوتے ہیں اور اس وقت یہ بے گناہوں کے قاتل کہاں ہوتے ہیں؟ حال ہی میں نیوی کے اڈے پر حملہ ہوا تو یہ حضرات کیا کررہے تھے؟ سعودی سفارتکار قتل ہوا تو قاتل معمول کے مطابق فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ایسے میں دہشت گرد پولیس اہلکاروں نے ایک خاص مکتب کے پیروکاروں کو تنگ کرنا کیوں شروع کیا؟ اپاہج انسان کو بارہ قتلوں کا الزام کیونکر دیا؟ کیا ان سوالات کا کوئی جواب بھی ہے؟

۔۔۔۔۔۔

/110