9 جون 2011 - 19:30

امریکی محکمہ خارجہ کا کہناہے کہ پاکستان کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملات پربات چیت کی جائے گی۔

ابنا: امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے روازنہ کی بریفنگ میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کی گمشدگی اور موت پر بیان جاری کیا تھا، اور سلیم شہزاد کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیاتھا مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ہم آزادی صحافت اور صحافی برادری پر تشدد کو انتہائی اہم معاملہ سمجھتے ہیں، بریفنگ کے دوران صحافی کی جانب سے کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں مارے جانے والے نوجوان کے بارے میں پوچھے گئے سوا ل کا جواب دیتے ہوئے مارک ٹونر کا کہناتھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملات پر پاکستان کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت کی جاتی ہے،اور امریکہ اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہتا ہے۔

بشکریہ از روزنامہ جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب بات یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اور نائب صدر اس وقت خطے مین انسانی حقوق کی تاریخی خلاف ورزیوں اور انسانیت کی خلاف عجیب ترین اور قابل نفرت ترین جرائم کا ارتکاب کرنے والے بحرینی آل خلیفہ خاندان کے ولیعہد کے میزبان ہیں اور ولی عہد کو امریکی انتظامیہ کے اراکین کی ضیافتوں سے فرصت نہیں مل رہی لیکن اب چونکہ پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات عروج پر ہیں تو امریکی جو پاکستان ہی میں انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں ـ پاکستان سے انسانی حقوق کی پامالی کے حوالی سے بات چیت کریں گے۔ امریکیوں کو 2004 سے پاکستان مین ہزاروں مظلوم عوام کے قتل عام پر کبھی بھی انسانی حقوق یاد نہیں آئے اور مسلسل پاکستانی حکمرانوں کو یقین دلاتے رہے کہ "پاکستان امریکہ کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے " اور اسے ابھی تک پاکستان میں ہزاروں قتلوں میں ملوث پاکستانی حکمرانوں کے خلاف بولنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کیونکہ وہ سارے قتل امریکہ کے مفاد میں تھے لیکن اب شاید حالات بدل گئے ہیں اور امریکہ Do More کا اپنا پرانا مقصد حاصل کرنے کے لئے نئے الزامات لگانے لگا ہے۔
.........

/110