بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے رکن اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن، ابراہیم رضائی نے ایران کے نیوز چینل کے پروگرام "گفتگوی ویژہ خبری" (خصوصی اخباری گفتگو) کے دوران خطے کی صورت حال اور ایران کے جوہری پروگرام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: 40 روز جنگ کا ایک نتیجہ یہ رہا کہ ہم نے اپنی قومی سلامتی کے مسئلے میں ثابت کرکے دکھایا کہ ایران اپنی قومی سلامتی کے مسئلے میں تکلفات سے کام نہیں لیتا۔
رکن قومی سلامتی کمیشن کے انٹرویو کا دوسرا حصہ؛ اہم نکات:
آئی اے ای اے مغربی جاسوسی کا اوزار / قومی سلامتی اور عوامی مطالبہ
8۔ IAEA مغربی جاسوسی کا اوزار ہے
• این پی ٹی کے آرٹیکل 4 اور IAEA کے آرٹیکلز 2-3 کے تحت رکن ممالک پرامن جوہری ٹیکنالوجی کا حق رکھتے ہیں اور عالمی برادری کو ممالک کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے، لیکن ایران کو ان آرٹیکلز سے کوئی فائدہ نہیں ملا۔
• 12 اور 40 روزہ جنگوں نے ثابت کیا کہ IAEA کا کردار مغربی جاسوسی ایجنسیوں ہی کا کردار ہے۔
• دشمن IAEA کے انسپیکٹرز کی ایران واپسی کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ معلومات اپ ڈیٹ کرے؛ وہ پھر بھی موساد کے جاسوسوں کو ہمارے مراکز دکھانا چاہتے ہیں۔
• چنانچہ جوہری معاملے پر دشمن سے مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے۔
9۔ اصفہان پر زمینی حملے کا اصل ہدف
• دشتِ مہیار اصفہان پر امریکیوں کے زمینی حملے کا مقصد جوہری مواد چرا کر لے جانا تھا؛ پائلٹ نکالنے کا دعویٰ جھوٹ ہے۔
• یہ آپریشن اللہ کے فضل سے ایرانی مسلح افواج کی موجودگی کی وجہ سے امریکہ کے لئے بڑی فضیحت بن گیا۔
10۔ ایران کی برتر پوزیشن
• دشمن 118 ڈالر فی بیرل تیل کی قیمت، اقتصادی و سیاسی دباؤ کے باعث کمزور پوزیشن میں ہے؛ ایران کی طرف سے اس کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔
11۔ آبنائے ہرمز کی بندش
• ہم نے مارچ 2026 سے آبنائے ہرمز بند اور کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا اور کامیاب رہے؛ 118 ڈالر فی بیرل تیل کی قیمت اس کی تصدیق ہے۔
12۔ قومی سلامتی اور عوامی مطالبہ
• طاقت سے ہی مستقبل کی سلامتی یقینی بنائی جا سکتی ہے؛ بین الاقوامی پروٹوکولز طاقت یا سلامتی نہیں دیتے۔
• امریکہ کی مثال: دوسرے ملک کے صدر کو اغوا کرنا اور جوابدہ نہ ہونا، وہ طاقت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
• رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد مغربی فریم ورکس سے عبور ضروری ہے۔
• عوام کا جوہری ڈاکٹرائن میں تبدیلی کا مطالبہ جائز ہے اور اسے پورا کرنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ