اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ روز جنوبی یمن کے صوبے لحج میں شہر عدن اور فوجی اڈے العند پر حاوی پہاڑی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔
اس صوبے کے مقامی اور قبائلی ذرائع نے بتایا کہ یمنی فورسز نے ضلع المقاطرہ کے مرکزی علاقے، تاریخی قلعہ المقاطرہ اور پہاڑی درّے الکربہ کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ قلعہ المقاطرہ فوجی اڈے العند کے قریب واقع ہے، جو جنوبی یمن کا سب سے بڑا فوجی اڈہ شمار ہوتا ہے، جبکہ الکربہ کا پہاڑی درّہ صوبے کے وسیع علاقوں پر نظر رکھنے کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے۔
لبنان کے روزنامہ الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اہم علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جنوبی یمن میں المضاربہ اور رأس العارہ سے لے کر طورالباحہ کے محاذوں تک وسیع علاقے تقریباً مکمل طور پر یمنی مسلح افواج کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔
المقاطرہ میں یہ پیش قدمی ایک تیز رفتار حملے کے دوران ہوئی، جس میں یمنی فورسز نے سعودی اتحاد سے وابستہ نام نہاد ’’درع الوطن‘‘ فورسز کے ایک کیمپ، الربوع بازار اور اس ضلع کے دیگر علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب یمنی مسلح افواج لحج کے کئی اضلاع، جن میں الصبیحہ کے علاقے بھی شامل ہیں، میں داخل ہو چکی تھیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ باب المندب کے جنوب میں واقع ضلع المضاربہ اور رأس العارہ میں سعودی عرب سے وابستہ فورسز کی رسد پہنچانے کے راستے اب یمنی مسلح افواج کی گولہ باری کی زد میں ہیں۔ اس صورت حال کے باعث ان فورسز کو اپنا زیادہ تر سازوسامان اور کمک سمندری راستے سے عدن کے صوبے میں واقع رأس عمران کے علاقے سے رأس العارہ منتقل کرنا پڑ رہی ہے۔
جنوبی یمن میں سعودی حمایت یافتہ فورسز پر فوجی دباؤ
فوجی مبصرین کے مطابق، المقاطرہ پر کنٹرول سے طورالباحہ کے علاقے میں ریاض کی حمایت یافتہ فورسز پر فوجی دباؤ بڑھے گا۔ اس کے علاوہ کہبوب کے پہاڑی سلسلے میں ان فورسز کے باقی ماندہ ٹھکانوں کو بھی زیادہ خطرات لاحق ہوں گے۔ یہ پہاڑیاں باب المندب کی آبنائے کے متعدد ساحلی علاقوں پر نظر رکھتی ہیں اور گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ان کے تقریباً 80 فیصد حصے پر یمنی مسلح افواج نے قبضہ کر لیا ہے۔
یمن کے مغربی ساحلی محاذ پر بھی المقاطرہ میں پیش قدمی کے نتیجے میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے رسد پہنچانے کے کئی راستے یمنی فورسز کی نگرانی اور نشانے کی زد میں آ جائیں گے۔
جنوبی یمن کے فوجی ذرائع نے اس پیش قدمی کو ایک اہم تبدیلی قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے مغربی ساحل پر فوجی محاذوں کی صورت حال ایک بار پھر تبدیل ہو سکتی ہے۔
ان ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ یمنی مسلح افواج نے المضاربہ کے مرکزی علاقے الشطین اور رأس العارہ میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ ’’جنوبی فورسز‘‘ کے ٹھکانوں کو گھیرنے کے لیے اب تک کی سب سے بڑی پیش قدمی کی ہے اور انہیں تین سمتوں سے محاصرے میں لے لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ان ٹھکانوں کا محاصرہ کرنے کے بعد یمنی فورسز ساحل کی جانب بڑھیں تاکہ باب المندب اور ذوباب ایئرپورٹ کی طرف جانے والی فورسز کے رسد کے راستے منقطع کیے جا سکیں اور رأس العارہ میں باقی ماندہ ٹھکانوں تک کمک پہنچانے کے راستے بھی بند کیے جا سکیں۔
ایک فوجی ذریعے نے وضاحت کی کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز کو اب عدن اور لحج کے شہروں کے قریب نئے فوجی محاذوں کا سامنا ہے۔ یہ صورت حال باب المندب کی آبنائے پر حملے کے ان کے سابقہ منصوبے کی جگہ لے چکی ہے۔
یمنی حکام کی سعودی افسران اور فوجی مراکز کو وارننگ
میدان میں ان پیش رفتوں کے ساتھ ہی یمن کی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ لحج، ابین، عدن اور شبوه کے گورنروں نے ان صوبوں کے رہائشیوں کو سعودی عرب سے وابستہ فوجی کیمپوں میں موجودگی کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی یمن کے مختلف صوبوں میں واقع وہ تمام فوجی کیمپ اور آپریشن رومز، جہاں سعودی فوجی یا افسران موجود ہیں، حملوں کے جائز اہداف ہوں گے۔
اسی سلسلے میں یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ ان کی فورسز کے پاس یمن میں تعینات سعودی فوجی افسران کے ناموں، ان کی تعیناتی کے مقامات اور نقل و حرکت سے متعلق مکمل معلومات موجود ہیں۔ یہ وہ افسران ہیں جو یمن میں سعودی عرب کی تمام فورسز اور آپریشنل مراکز کی کمان سنبھالتے ہیں۔
یحییٰ سریع کے مطابق، سعودی افسر فہد بن حمد السکان مشترکہ فورسز کی کمان کر رہے ہیں اور یمن میں تعینات تمام سعودی افسران کی نگرانی کے بنیادی ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یمن کے اندر امداد اور معاونت فراہم کرنے والی فورس سعودی افسر علی عایض بن علی مطر الحارثی کے زیر انتظام ہے، جبکہ ’’شرورہ‘‘ فورس، جو یمن کے اندر متعدد آپریشنل اڈوں کا انتظام سنبھالتی ہے، سعودی افسر عبداللہ بن فہد السہلی کی سربراہی میں کام کر رہی ہے۔
سعودی افسران کے نام اور ان کی کمان میں موجود فوجی اڈوں کی تفصیلات
یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے مزید کئی فوجی اڈوں اور مراکز کے نام بتائے، جو سعودی افسران کے زیر انتظام ہیں۔
ان کے مطابق، عدن میں واقع المخا اور جبل النار کے فوجی اڈے سعد بن محمد فنیس القحطانی کی کمان میں ہیں۔ اسی طرح شبوه صوبے کا فوجی کیمپ مرہ مصلح بن عید العتیبی کے زیر انتظام ہے۔
یحییٰ سریع نے بتایا کہ عدن کا فوجی کیمپ النصر بدر بن صالح الحربی المعروف العجیلی کی کمان میں ہے، جبکہ مأرب کا فوجی اڈہ فارس الشمری المعروف ابوسلطان کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق، حضرموت میں تعینات فورسز کی کمان محمد طلال البلوی کے پاس ہے، جبکہ جزیرہ سقطری میں تعینات فورسز کے ذمہ دار سعید الغامدی ہیں۔
یحییٰ سریع نے آخر میں کہا کہ ان کی کمان میں موجود فورسز مذکورہ فوجی ٹھکانوں اور مراکز کی مسلسل نگرانی اور انہیں نشانہ بنانے کا عمل جاری رکھیں گی۔ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ مستقبل میں یمن میں تعینات مزید سعودی افسران کی تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
آپ کا تبصرہ