9 جون 2011 - 19:30

سپریم کورٹ نے کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں نہتے نوجوان کی ہلاکت پر ڈی جی رینجرز سندھ اور آئی جی سندھ کوتین دن میں ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔

ابنا: عدالت نے کراچی میں رینجرز کے اختیارات کی تفصیلات بھی طلب کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو مقدمہ کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرکے تیس دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے رینجرز کی فائرنگ کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ، سندھ رینجرز کے ڈی جی، صوبائی آئی جی اور چیف سیکریٹری عدالت میں موجود تھے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کاکہناتھاکہ رینجرز کو ٹارگٹ کلنگ روکنے کیلئے تعینات کیا گیاہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں تو الٹا ہورہا ہے ، سارا ملک چیخ رہا ہے، مرنے والا پاکستان کا بچہ تھا، انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو استعفی دے دینا چاہیئے تھا ، چیف سیکریٹری سندھ سبحان میمن نے سول انتظامیہ کے ناکام ہونے کا اعتراف اور عدالت کے سامنے سرنڈر کیا تو چیف جسٹس نے کہاکہ معاملے کاحل ڈھونڈیں، جسٹس جاویداقبال نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ رینجرزتعینات کرنیکی پالیسی پرنظرثانی کریں ،وقفہ کے دوران اٹارنی جنرل اور وفاقی سیکریٹری داخلہ مشاورت کے لئے وزیراعظم ہاوٴس گئے اور واپس آکر عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم ، قومی اسمبلی میں مصروف ہیں ، عدالت نے تحریری حکم میں آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو تین دن میں ہٹانے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں ان کی تنخواہ ، ہٹائے جانے تک روک دینے کا حکم جاری کیا ، ٹرائل کورٹ کو روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرکے اسے تیس دن میں نمٹانے ککا حکم دیا اور ڈی آئی جی ویسٹ کراچی سلطان خواجہ کو تفتیشی آفیسر مقرر کیا گیا ہے ، عدالت نے اپنے حکم میں لکھا ہے کہ کراچی واقعہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بربریت کی کلاسیکل مثال ہے۔

کراچی،نوجوان کے قتل میں ملوث رینجرز کے2اہلکار پولیس کے حوالے  کراچی میں بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں نوجوان کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث رینجرز کے2اہلکاروں کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے حقوق انسانی مصطفی نواز کھوکھر نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ڈی جی رینجرز سے ملاقات کی اور سارے معاملے پر گفتگو کے بعدیہ طے پایا ہے کہ قتل کی ایف آئی آر میں جن دو ملزمان کے ناموں کا اندراج ہے انہوں پولیس کے حوالے کیا جائے گا ۔ جیو نیوز کی جانب سے وہاں جائے وقوعہ پر موجود دیگر اہلکاروں اور ’معاونت قتل‘ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ ابتداً جن دو ملزمان کی ناموں کے ساتھ ایف آئی آر میں نشاندہی کی گئی ہے انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ دیگر افراد کو ’نامعلوم‘ ملزمان کہا گیا ہے تاہم انہیں بھی جلد ہی پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110