ابنا: مصر کے سفیر نے ناوابستہ تحریک کے رکن ملکوں کی طرف سے آئي اے ای اے کے بورڈ آف گورنرس کے اجلاس میں یہ بیان پڑھ کرسنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کا انسپکشن آئي اے ای اے کے قوانین اور تکنیکی ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئي اے ای اے کوبھی چاہیے کہ وہ بھی اپنے منشور اور قوانین کے مطابق ایران کے ایٹمی معاملے سے نپٹے۔ انہوں نے کہا کہ صرف آئي اے ای اے ہی وہ واحد ادارہ ہے جہاں ملکوں کے ایٹمی پروگراموں کاجائزہ لیاجاسکتا ہے۔ اس بیان میں ایران کی جانب سے آئي اے ای اے کےساتھ مستقل تعاون کو سراہا گيا ہے اور تاکید کی گئي ہےکہ ایران کا ایٹمی معاملہ صرف پرامن راستوں سے ہی حل ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز