ابنا: کراچی میں رینجرز کے اہلکاروں کے ہاتھوں یہ لرزہ خیز واردات گذشتہ شام کلفٹن میں بینظیر بھٹو شہید کے نام سے موسوم پارک میں ہوئی۔ پولیس کے مطابق شیریں جناح کالونی کے رہائشی افسر خان نے بوٹ بیسن تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی کہ اس کا دوست پولیس اہلکار عالم زیب اپنی اہلیہ کے ساتھ کلفٹن میں بے نظیر شہید پارک آیا ہوا تھا کہ ملزم سرفراز نے پستول تان کر لوٹ لیا جس پر اس نے رینجرز اہلکاروں کو اطلاع دی، رینجرز کی مدد سے ملزم کو پکڑنے کی کوشش گئی تو ملزم نے فائرنگ کردی اور رینجر کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہوگیا۔ پولیس نے ملزم سے غیرقانونی اسلحہ برآمد ہونے کا ایک اور مقدمہ بھی درج کرلیا۔ یہ توتھی ایک روایتی کہا نی جو سالہا سال سے جاری سرکاری اداروں کی جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کی جھلک دکھاتی ہے۔ لیکن اس کی اصل کہانی سامنے آتی ہے اس واقعہ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد۔ویڈیو نے حراست میں لئے جانے کے بعد نوجوان کو بالوں اور بازووٴں سے پکڑے جانے اور اس نہتے نوجوان کے ماورائے عدالت قتل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔اصلی کہانی کے مطابق مبینہ واردات کے دوران سرفراز کو پولیس اہلکار عالم زیب اور مقدمے کے مدعی افسر خان نے ہی پکڑ کر رینجرز اہلکاروں کے حوالے کیا۔ کوئی گولی چلی اور نہ مقابلہ ہوا۔ اس کے برعکس اہلکار اسے بالوں اور بازووٴں سے پکڑ کر گاڑی کی طرف لے جارہے ہیں اس دوران اس کے ماورائے عدالت قتل کئے جانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ جس پر رینجرز اہلکار اس نوجوان کو مارنے کے لئے کھڑا کرتے ہیں تو سرفراز اپنی پستول کے نقلی ہونے کا واویلا کرتا ہے۔ جان بچانے کے لئے منت سماجت کرتا ہے مگر زندگی کے لئے مانگی گئی بھیک کام نہیں آتی۔عوام پر اختیارات اور روایتی حکمرانی کے نشے میں دھت اور دھونس کے عادی اہلکاروں کی سرکاری گردی یہاں بھی کام کر گئی۔اہلکاروں نے جدید ترین ہتھیاروں سے بڑی درندگی سے نہتے نوجوان پر پے در پے گولیاں چلائیں۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود سرفراز کو فوری طور پر اسپتال نہیں پہنچایا، جب پہنچایا گیاتو وہ موت کی نیند سو چکا تھا۔ ظاہرکیا گیا ڈاکووٴں سے دوبدو مقابلہ، پیغامات وصول کئے گئے شاباش اور جرات اور بہادری کے،احتجاج نہ کیا جاتا تو شاید یہ بھی مقابلہ ہی ثابت ہوچکا ہوتا اور کے کئی دوست اور گھر والے بھی شاید اب تک اس سے تعلق کے الزام میں گرفتار ہوچکے ہوتے۔ مگر اس واقعہ کی ملنے والی فوٹیج نے بربربیت کا بھانڈا بھوڑ دیا۔نہتے شہریوں کے ریاستی ظلم و ستم کے ساتھ ساتھ اس طرح کی بربریت آخر کب تک اس معاشرہ میں کیا انصاف کی کوئی امید باقی ہے؟ ادھر وزارت انسانی حقوق نے کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ حکومت سے تحققیاتی رپورٹ طلب کی ہے۔ وزارت انسانی حقوق نے چیف سیکرٹری سندھ کو ہدایت کی ہے کہ و اقعے کی تحقیقات کریں اور بتائیں کہ ماورائے قانون قتل کس طرح ہوا۔ ..........
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز