ابنا: ابتدائی اطلاعات کے مطابق مسلح دہشت گردوں کی فائرنگ سے پہلے بیس پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم بعد میں حکام نے بتایا کہ شہر میں دیگر واقعات میں بیاسی اہلکار سکیورٹی دستوں کے ہیڈکوارٹر پر حملے میں مارے گئے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق سینکڑوں کی تعداد میں مسلح افراد نے جسر الشغور شہر کے کئی حصوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔ ٹی وی کے مطابق ہلکے ہتھیاروں اور دستی بموں سے لیس مسلح افراد نے شہر کے باشندوں کی حفاظت کے لیے آنے والی پولیس پر حملہ کر کے بیس لوگوں کو ہلاک کر دیا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق شہر میں مسلح دہشت گرد حقیقی طور پر قتل عام اور لاشوں کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق پولیس نے ان عمارتوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے جہاں سے مسلح دہشت گرد فائرنگ کر رہے ہیں۔شامی حکام کے مطابق مسلح افراد شہری باشندوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ شام کے وزیر داخلہ محمد ابراہیم الشعر نے کہا ہے کہ سکیورٹی دستے دہشت گردوں کے حملوں کے مقابلے میں خاموش نہیں رہیں گے اور شام کے شہریوں کو بچانے کے لئے قانونی چارہ جوئي کی جائے گی۔واضح رہے کہ شام میں دہشت گرد گروہ موجودہ صورتحال سے استفادہ کرتے ہوئے امریکی ،اسرائیلی اور سعودی مفادات میں سرگرم عمل ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز