5 جون 2011 - 19:30

ایران کی بندرگاہ بو شہر سے 310 کلومیٹر جبکہ قطر اورسعودی عرب سے 32کلومیٹر کے فاصلے پر “بحرین ” کے نام سے ایک اسلامی سرزمین واقع ہے۔

تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو انیسویں صدی میں برطانیہ نےایک بحرینی قبیلے “آل خلیفہ “کےساتھ یہ معائدہ کیا تھاکہ اگر” آل خلیفہ ” خطّے میں برطانوی مفادات کا تحفظ کرے تو اسے بحرین کا حاکم بنا دیا جائے گا۔اس دن سے لے کر آج تک بحرین میں” آل خلیفہ” کی بادشاہت قائم ہے اوربحرینی عوام عدل و انصاف کے حصول ،جمہوری اقدار کے فروغ،انسانی حقوق اور آئین و قانون کی بالادستی کی خاطر صدائیں دے رہے ہیں۔            یہ بحرین کی سرزمین ہے کہ جہاں ایک طرف بحرینی عوام امریکہ و برطانیہ کے خلاف سڑکوں پر سراپااحتجاج اور آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر شپ کے خلاف غم و غصّے کا اظہار کر رہےہیں جبکہ” آل خلیفہ “عوامی مظاہروں کو “آل سعود” کی طاقت سے کچلنے اوراپنےپرچم پر “لاالہ الااللہ ” لکھے اور ہاتھوں میں امریکی اسلحہ تھامے نہتے بحرینی مسلمانوں پر یلغار کرنے میں مصروف ہے ۔ لیکن آل سعود اور آل خلیفہ کی فورسز کی شدید حیرت و وحشت کے باوجود بحرینی عوام موت سے ڈرنا بھول گئے ہیں اور موت سے لڑ کر زندگی کی تلاش میں ہیں۔ 

       تیرھویں ہجری اور اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب آل سعودعرب خانہ بدوشوں کی صورت میں زندگی گزار رہے تھے اور نجد کے نزدیک درعیہ کے مقام پر اس خاندان کی ایک چھوٹی سی حکومت تھی۔اس دوران ابن تیمیہ کی تعلیمات سے متاثر ایک شخص محمد ابن عبدالوہاب نے درعیہ کے حاکم محمد ابن سعود سے ملاقات کرکےاسےعربستان میں بکھرے ہوئے قبائل کو اسلام کے نام پر متحد کرنے کا مشورہ دیا۔محمد ابن سعود اور مد ا ابن عبدالوہاب کے درمیان یہ طے پایا محمد ابن وہاب کے افکار کی ترویج و اشاعت ابن سعود کا اولین فریضہ ہے اور ابن سعود کی حکومت کو اسلامی حکومت کے طور پر متعارف کرانا اور لوگوں کو ابن سعود کے گرد جمع کرنا محمد ابن وہاب کی ذمہ داری ٹھہری۔              مختلف نشیب و فراز آنے کے باوجود محمد ابن سعود کے اور اسکی آل نے اس معائدے کی پاسداری کی اور یوں وہابیت اور آل سعود نے یک جان اور دو قالب بن کر ارتقائی مراحل طے کئے۔ابن وہاب کے متشددانہ عقائد ، جارحانہ افکار اور جارحیّت آمیز رویّے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ موصوف نے اپنی کتاب “کشف الشبہات “میں24 سے زائد مقامات پر دوسرے اسلامی فرقوں کو کافر کہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت افغانستان و بحرین سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھتی ہے اور اسلامی ممالک کے خلاف استعمار کا ساتھ دیتی ہے۔ استعماری طاقتوں نے سعودی عرب میں آل سعود سے ،قطر میں آل ثانی سے،امارات میں آل نہیان سے ، بحرین میں آل خلیفہ سےاور کویت میں آل صباح سے اس طرح کے معائدے کئے کہ اگر انہیں حکومت دی جائے تو وہ خطے میں استعماری مفادات کا تحفظ کریں گئے اور انہی معائدوں کے باعث مذکورہ خاندانوں کو حکومتیں سونپی گئیں اور اسکے بدلے انہوں نے اپنی بقاء اور استحکام کی خاطر استعمار کی کھل کر حمایت کی۔       اس وقت سعودی حکومت بحرین میں قتل و غارت کر کے ایک تیر سے دو شکار کر رہی ہے ۔ایک تو یہ کہ متشددانہ افکار کے باعث دوسرے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہوئے انہیں قتل کررہی ہے اور دوسرے یہ کہ استعماری مفادات کے دفاع کے لئے اپنے معائدوں کو پورا کر رہی ہے ۔ آل خلیفہ و آل سعود کی فورسز ظلم و تشدد کی نئی داستان لکھتے جارہے ہیں اور ہر اس جائز و ناجائز وسیلے کا استعمال کرہے ہیں جس سے عوامی آواز کو دبایا جاسکے۔       اپنے موقف پر ڈٹ جانا جس کا مشاہدہ ہم اس وقت بحرین میں دیکھ رہے ہیں کہ جوٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کے سامنے ڈٹ گئے اور اپنے سینوں سے ان کا مقابلہ کیااور اپنی جانوں کی قربانی پیش کرکے کربلائی جذبہ کا عملی مظاہرہ کر تے ہوئے راتوں کو اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے اور دن کے مظاہرے قابضین و غاصبین کا چین غارت کرگئے ہیں۔ در حقیقت شیعہ تاریخ ہی سرخ تاریخ ہے جس کا ہر ورق اہلبیت علیہ ااسلام اور انکےماننے والوں کے خون ناحق سے تحریر ہے ،اور اس کی سب سے بڑی وجہ اہل تشیع کا وہ نکتہ نظرہے جس کے تحت وہ کسی ظالم کو خاطر میں نہیں لاتےاور دور حاضر کے شیعہ اسلئے واجب القتل ہیں کہ وہ عالمی استعمار کے سامنے نہیں جھکتے ۔ شیعہ کو ماردو خواہ بحرین میں ہو یا سعودیہ میں یا پھر عراق و پاراچنار میں اس لئے کہ شیعہ کی فقہ میں لکھا ہے جبر و ظلم کے خلاف ہمیشہ بر سرپیکار رہو اور ظالم کےسامنے ڈٹ جاو۔       بحرین، سعودی عرب ، امارات ، عرب دنیااور باقی تمام ڈیکٹیٹر حکومتوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ شاید وہ کچھ دنوں کے لئے اپنی عوام کے اعتراضوں کو خاموش کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں لیکن، وہ دن دور نہیں جب ناحق بہنے والا خون اور گلے میں دبی ہوئی آوازیں، ایک ایسی تحریک کو جنم دیں گی جو ظلم و ستم کی بنیادوں کو ویران کر کے رکھ دے گا۔       ہماری اخلاقی،شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ مظلوم بحرینی عوام کو ان متعصب ظالموں سے نجات دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور اس ظلم و بربریت کو بے نقاب کریں۔       آج پاکستانی حکام فوجی فاونڈیشن اور بحریہ کے تعاون سے بحرین میں لوگوں کے قتل عام کے لئے بھرتیاں کرتے ہوئے افغانستان میں استعمال ہونے والے سعودی ریّال اور فکر جبکہ پاکستانی مدارس اور نوجوان اور اسکا نتیجہ یاد رکھیں اور شیعہ قوم کو امتحان میں مت ڈالا جائے۔       قرآن اور آسمانی وحی کی منطق کے مطابق جفا کار، ظالم اور من مانیاں کرنے والے سب زائل ہونے والے ہیں اور عقلی اور اسلامی نگاہ کے مطابق، انسانوں پر ظلم کرنا اور ان کے حقوق کو پاما ل کرنا چاہے جس مذہب اور عقیدہ سے بھی ہو، گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے، اور اللہ تعالی کی حتمی تقدیر یہی ہے کہ ظالموں کے ان کے تخت قدرت سے، ذلت کی حقارت میں دھکیل دے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110