5 جون 2011 - 19:30

بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔

ابنا: حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کو ابھی پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حکومت وقت کے ایجنٹوں نے ان کے والد بزرگوار کی ندائے حق کا جواب بندوق کی گولیوں سے دیا اور انھیں شہید کردیا ۔ اس طرح حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ انتہائی کمسنی کے عالم سے ہی رنج یتیمی سے آشنا اور مفہوم شہادت سے مانوس ہوگئے۔علم دین حاصل کر کے جوانی میں ہی درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے اور دینی امور کے ساتھ ساتھ ملکی امور پر بھی نگاہ رکھنا شروع کی اور شاہ کی خائن حکومت کے غلط اقدامات کی نشاندہی کرنے لگے۔ جس پر حکومت ان کی مخالف ہو گئی۔ شاہ نے1963 ۔1962 کو انقلاب سفید کے نام پر چھ نکاتی پروگرام کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں ریفرنڈم کرائے جانے کی خواہش ظاہر کی ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ ایک بارپھر میدان میں آگئے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اس سلسلے میں جو اعلامیہ جاری کیا اس میں شاہ کے انقلاب سفید کو انقلاب سیاہ سے تعبیر کیا گیا اور کہاگیا کہ شاہ کے یہ سارے اقدامات امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی تکمیل کے لئے ہیں ۔انیس سو ترسٹھ کا محرم آن پہنچا۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے اس مہینے کو شاہ کی ظالم حکومت کے خلاف عوام کی تحریک میں تبدیل کردیا ۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے عاشورہ کی شام مدرسہ فیضیہ میں ایک تاریخی خطاب کیا جو پندرہ خرداد)چارجون ) کی تحریک کا نقطہ آغازثابت ہوا۔ شاہ نے تحریک کو کچلنے کا حکم جاری کیا ۔سب سے پہلے چودہ خرداد(3جون) کی شام کو حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے بہت سے ساتھیوں کو گرفتارکیا گیا۔ پندرہ خرداد (چارجون)کی صبح ہی تہران کے علاوہ مشہد شیراز اور دیگرشہروں میں حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی گرفتاری کی خبر تیزی کے ساتھ پھیل گئی اور قم میں بھی یہی صورت حال پیداہوگئی۔ شاہ اور اس کے جنرل کس طرح دیوانہ وار اس تحریک کو کچلنے کا حکم جاری کر رہے تھے۔ اس دن ہزاروں افراد شہید کر دیے گئے۔ آخرکار برسوں کی جدوجہد اور تحریک کے بعد گيارہ فروری انیس سو اناسی کو اسلامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا اور پیرس سے تہران پہنچنے پر عوام نے حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا والہانہ استقبال کیا۔حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے مشن ، نصب العین ، نظریات اور وہ تمام باتیں جو لوگوں تک پہنچانی تھیں، سب کچھ پہنچا دیا تھا اور عملی میدان میں بھی اپنی تمام ہستی اور پورا وجود الہی اہداف و مقاصد کی تکمیل کے لئے وقف کر دیا تھا۔ اب چار جون 1989 کو آپ خود کو اس عزيز ہستی کے وصال کے لئے آمادہ کر رہے تھے کہ جس کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے آپ نے اپنی پوری عمر مبارک صرف کردی تھی ۔ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے لئے وہ عظیم اور ان کے شیدائیوں کے لئے وہ جانکاہ لمحہ آن پہنچا ۔آپ نے خود اپنے وصیت نامے میں رقم فرمایا ہے : خدا کے فضل و کرم سے پرسکون دل، مطمئن قلب ، شاد روح اور پر امید ضمیر کے ساتھ بہنوں اور بھائیوں کی خدمت سے رخصت ہوتا ہوں اور ابدی منزل کی جانب کوچ کرتا ہوں۔چار جون انیس سو نواسی کو ہدایت کا سورج غروب ہو گيا لیکن دنیا میں ایسا اجالا کر گيا کہ اب ظلمتیں منہ چھپانے کے لیے جگہ ڈھونڈ رہی ہیں اور حق و حریت کے متوالے ہدایت کے اسی نور کی روشنی میں اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت