27 مئی 2011 - 19:30

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے صربیہ کے سابق فوجی سربراہ راتکو ملادیج کی گرفتاری کا خیرمقدم کیا ہے۔

ابنا: اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر اور سلامتی کونسل کے صدر نے کہاہے کہ سلامتی کونسل راتکو ملادیج کی گرفتاری کا خیرمقدم کرتی ہے اور صربیہ کی حکومت کو اس کامیابی پرمبارک باد پیش کرتی ہے۔ سلامتی کونسل نے راتکو ملادیج کی گرفتاری کے لئے صربیہ کی جانب سے ہیگ کی عالمی عدالت کی مدد کو بھی سراہا۔ سلامتی کونسل نے کہا کہ ملادیج کی گرفتاری اور اسے عالمی فوجداری عدالت کے حوالے کئےجانے سے بلقان میں قیام امن میں مدد ملے گي۔یادرہے صرب جلاد پر شہر سربرنیتسا میں آٹھ ہزار سے زائد مسلمانوں کا قتل عام کرنے کا الزام ہے۔  دوسری طرف شہر سربرنیتسا اور ژپا میں ماؤں کی انجمن نے اعلان کیا ہے کہ ملادیج کی گرفتاری سے بوسنیا کی جنگ کے جرائم کو فراموش نہ کیا جائے۔ اس انجمن کی سربراہ نے کہا ہے کہ بعض لوگ سوچ رہے ہیں کہ راتکو ملادیج کی گرفتاری سے جنگ بوسنیا کے سارے مسائل حل ہوگئے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے صربیہ کو رکنیت دینے پر آمادگي ظاہرکر دی ہے لیکن وہ بوسنیا کی جنگ میں کام آنے والوں کے بارےمیں کوئي بات نہیں کرتی۔ انہوں نے کہاکہ صرب قصاب پر مقدمہ چلائے جانے سے بہت سے حقائق آشکار ہو جائیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت