27 مئی 2011 - 19:30

واضح رہے کہ گذشتہ کئی برسوں سے دنیا بھر میں تشیع کا مقابلہ کرنے اور دنیا کے مسلمانوں کو شیعہ تعلیمات سے دور رکھنے کے لئے اس طرح کا تشہیری سلسلہ مسلسل جاری ہے جو اب باقاعدہ سرکاری طور پر سامنے آرہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل سعود نے حال ہی میں "تشیع کے فروغ کا شوشہ" چھوڑ کر سنی ریاستوں کو اپنی قیادت میں متحد کرکے اینٹی شیعہ کلب کی آڑ میں دنیائے عرب  اسلام پر اپنی قیادت مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کررکھی ہے تاکہ امریکہ اور اسرائیل کو عرب اقوام پر اپنا تسلط قائم کرنے میں آسانی ہو اور صرف آل سعود ہی مغرب اور اسرائیل کے سامنے جوابدہ ہو۔آل سعود خاندان ـ جو خود نہ تو سنی ہے نہ ہی شیعہ بلکہ یہود نصاری کی خدمت کو اپنا مقصد حیات بنائے ہوئی ہے ـ اور حال ہی میں اس نے مصر و شام سے لے کر پاکستان اور مشرق بعید تک اپنی خدمت گذاری اور اطاعت گذاری ثابت کرلی ہے اب سنی ریاستوں کی قیادت سنبھالنے کے چکر میں تشیع فروغ کا ہُوا دکھا کر اور تشیع سے انہیں خوفزدہ کرکے اینٹی شیعہ کلب بنانے کے چکر میں ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ کئی برسوں سے دنیا بھر میں تشیع کا مقابلہ کرنے اور دنیا کے مسلمانوں کو شیعہ تعلیمات سے دور رکھنے کے لئے اس طرح کا تشہیری سلسلہ مسلسل جاری ہے جو اب باقاعدہ سرکاری طور پر سامنے آرہا ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق آل سعود حکومت در حقیقت اپنے آپ کو عوامی انقلاب سے بچانے اور عرب انقلابات کو سبوتاژ کرنے کے لئے ایک عرب اتحاد بنانے کی کوشش کررہی ہے اور بعض ممالک میں فرقہ واریت کو ہوا دے کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس احتمال نے "امریکیوں کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے"۔ عجباً۔وال اسٹريٹ جرنل نے لکھا ہے کہ آل سعود کے حکمران پاكستان، ملائشیا، انڈونیشیا اور مرکزی ایشیا کی ریاستوں کی سفارتی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تا کہ بحرین میں شیعہ انقلاب کے شعلے بجھانے میں ان کی مدد بھی حاصل کرسکیں۔ امریکی روزنامے نے البتہ یہ بھی لکھا ہے کہ سعودی یہ منصوبہ امریکیوں کی مرضی پوچھے بغیر آگے بڑھا رہے ہیں اور اگرچہ امریکہ اور سعودی عرب ایران کے خلاف ایک ہی صف میں کھڑے ہیں لیکن اس منصوبے سے معلوم ہوتا ہے کہ آل سعود اور امریکہ کے درمیان اختلافات واضح ہورہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ آل سعود کے حکمران اپنی بادشاہت بچانے اور ممکنہ عوامی انقلاب کی صورت میں امریکیوں کی جانب سے آل سعود خاندان کی حمایت جاری رکھنے کے حوالے سے امریکیوں پر اعتماد نہیں کرسکتے اور وہ سمجھتے ہیں کہ شاید امریکہ انہیں بھی عوامی انقلاب کی صورت میں حسنی مبارک کی طرح تنہا چھوڑدیں اور وال اسٹريٹ جرنل نے بھی لکھا ہے کہ آل سعود کے ساتھ قریبی تعاون کرنے والے امریکی حکام نے بھی حالیہ دنوں میں انکشاف کیا ہے کہ آل سعود کے حکمران امریکیوں سے ناامید ہوچکے ہیں لیکن انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات مستحکم بھی ہوسکتے ہیں!۔ایک امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ آل سعود کے حکمران ہم سے راضی نہیں ہیں اور ایران کے سلسلے میں وہ امریکہ سے واقعی کافی غضبناک ہیں لیکن میرا خیال نہیں ہے کہ وہ اس سے آگے بھی بڑھیں گے۔  وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اقدامات ان امریکی کوششوں کے لئے رکاوٹ بن سکتے ہیں جو امریکہ نے علاقائی انقلابات کو اپنی مرضی کی جمہوریتوں کے قیام پر ختم کرنے کے سلسلے میں شروع کررکھی ہیں۔ تاہم بعض مبصرین کے مطابق آل سعود کے حکمران یہ سب مغرب اور اسرائیل کی مرضی سے ہورہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مغرب اور اسرائیل عرب ممالک کے انقلابات سے سخت خوفزدہ ہوچکے ہیں اور اب انھوں نے آل سعود کو اپنے لئے درپیش آفتوں کے سامنے ڈھال بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور آل سعود کے حکمران ـ جو عرصہ دراز سے حجاز و نجد کی دولت لوٹ لوٹ کر دنیا کے دولتمند ترین خاندانوں میں تبدیل ہوچکے ہیں ، عرب دنیا پر اپنی قیادت مسلط کرکے عالم عرب کی قیادت کے مزے بھی لوٹنا چاہتے ہیں اور عالم عرب میں اٹھنے والے عوامی انقلابات کو بھی لگام دینے کی کوشش کررہے ہیں تا کہ امریکہ اور یورپ نیز اسرائیل اپنی ریشہ دوانیاں زیادہ اطمیںان کے ساتھ جاری رکھ سکیں اور آل سعود خاندان پولیس میں کے عنوان سے امریکہ کی خدمت کرسکے اور عوام کو ان کے حقوق سے مزید محروم رکھ سکے۔یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اردن کا شاہی خاندان ـ جو حجاز کے قبل از وہابیت دور کے حکمرانوں کا چشم و چراغ سمجھا جاتا ہے ـ عرصۂ دراز سے عرب دنیا کی قیادت سنبھالنے کے خواب دیکھ رہا ہے اور سعودی عرب در حقیقت اس سلسلے میں اردنی شاہی خاندان کے رقیب کی حیثیت سے ابھر چکا ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق آل سعود نے مشرق وسطی کے عرب ممالک سمیت پاکستان، ملائشیا اور انڈونیشیا جیسے ایشیائی ممالک سے اپیل کی ہے کہ ایران کا سامنا کرنے، دنیا میں تشیع کے فروغ کا راستہ روکنے اور بحرین میں عوامی انقلاب کو کچلنے کے لئے اس پروگرام میں آل سعود کے ساتھ تعاون کریں۔حقیقت یہ ہے کہ آل سعود خاندان ان ممالک کو اپنا تابع و مطیع بنانا چاہتا ہے جبکہ امریکہ بھی اس سلسلے میں آل سعو د کے حق میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔ وال اسٹریت جرنل کے مطابق آل سعود کی عالمی سازشوں کے کرتے دھرتے بندر بن سلطان نے حال میں پاکستان کا دورہ کیا تو وہاں بھی انھوں نے _ امریکیوں کی اجازت سے ـ کہا تھا کہ "علاقے میں استحکام کی بحالی کے حوالے سے امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا"۔ دوسری طرف سے وہابی تفکرات کے فروغ کی عالمی سازش کو آگے بڑھانے میں پہلا کردار ادا کرنے والے ولید بن طلال نے نیویارک ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ آل سعود نے  اردن کے بادشاہ عبداللہ (بن حسین بن طلال الہاشمی) اور مراکش کے بادشاہ محمد ششم (بن حسن محمد العلوی) سے کہا ہے کہ "بادشاہوں کا ایک کلب سا تشکیل دیا جائے۔یادر ہے کہ اردن کے ہاشمی اور مراکش کے علوی کہلوانے والے بادشاہ ہاشمی اور علوی کہلوانے کے باوجود دشمنان اسلام ـ بالخصوص اسرائیل ـ کے مخلص خادم ہیں اور آل سعود کی طرح یہ مطلق العنان شاہی خاندان بھی اسرائیل کی خدمت میں اپنی جان تک کی بازی لگانے کے لئے تیار رہتے ہیں تاکہ غیر منتخب ہونے کے باوجود امریکہ اور یورپ کی حمایت سے بہرہ مند رہیں۔ولید بن طلال نے نیویارک ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا: ہم بادشاہتوں کو پیغام دے رہے ہیں کہ بادشاہی حکومتیں ان حدود میں واقع نہیں ہیں جہاں تحریکیں چل رہی ہیں! ہم کنگز کلب کا منصوبہ ان پر زبردستی ٹھونسنا نہیں چاہتے بلکہ اس کلب کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے بادشاہی نظاموں کے مفادات کا تحفظ کریں۔ دریں اثناء اطلاعات کے مطابق آل سعود نے مصر کی فوجی کونسل کو 4 ارب ڈالر کی رشوت دے رکھی ہے تا کہ وہاں اسرائیل اور امریکہ نیز سعودی مفادات کا تحفظ کیا جاسکے اور یمن میں بھی آل سعود کی کوشش ہے کہ انقلاب کا خاتمہ کرے اور یمن کے حالات بھی اپنے حق میں پرامن بنادے۔ یادرہے کہ مراکش اور اردن میں بھی مسلسل مظاہرے ہورہے ہیں جبکہ سعودی عرب میں بھی مظاہرے تین مہینوں سے جاری ہیں چنانچہ ولید بن طلال کا یہ دعوی بے بنیاد ہے کہ عرب مطلق العنان بادشاہتیں انقلابیوں کی دسترس سے دور ہیں۔یمن کے عوام نے اب تک آل سعود کی تمام سازشیں ناکام بنادی ہیں اور مصر والوں نے کل والے دن دوسرا جمعة الغضب منا کر فوجی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک باصلاحیت کمیٹی تشکیل دے کر عبوری دور کے تمام معاملات اس کے سپرد کردے۔ چنانچہ بیداری کے اس دور میں آل سعود کی عالمی قیادت کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا محال نہیں تو مشکل ضرور ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت  

- رہبر انقلاب اسلامی کے فتاوی کے بارے میں آیت اللہ سیستانی کا فتوی / اپڈیٹ