19 مارچ 2011 - 20:30

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنے الگ الگ بیانات میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جبر و استبداد، اور اندرونی اور بیرونی ذرائع ابلاغ کے نامہ نگاروں اور فوٹوگرافروں کی گرفتاریوں اور ان پر تشدد کا سلسلہ بند کرے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے آل خلیفی حکمرانوں پر ابلاغی اداروں سے وابستہ افراد کی گرفتاری اور ان پر تشدد کی بنا پر آل خلیفہ حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ 14 فروری کو سیاسی اور قانونی اصلاحات کے لئے انقلابِ بحرین کے آغاز سے لے کراب تک بحرین میں ذرائع ابلاغ کے لئے مناسب ماحول دستیاب نہیں ہے۔آل خلیفہ کے حکام روزنامہ نویسوں کو بحرین کے واقعات کو کوریج دینے کے الزام میں ملازمتوں سے برخاست کررہے ہیں یا انہیں جیلوں میں بند کرتے ہیں؛ انھوں نے بعض بیرونی نامہ نگاروں کو ملک بدر کیا ہے یا پھر ان کے لئے کام کی فضا بہت حد تک محدود کردی ہے۔ آل خلیفہ حکمرانوں نے ان روزنامہ نویسوں کو قید کرکے تشدد کا نشانہ بنایا ہے جنہوں نے عوامی مظاہروں میں شرکت کی تھی۔ روزنامہ نویس اور روزنامہ الوسط کے بانی عبدالکریم فخراوی نے 12 اپریل کو نہایت مشکوک حالت میں آل خلیفہ کی قیدخانی میں جان دے دی اور انٹرنیٹ پر سرگرم روزنامہ نویس "زکریا العشیری" بھی 9 اپریل کو آل خلیفہ کے اذیتکدے میں مشکوک حالت میں قتل ہوئے۔ دریں اثناء ایک بحرینی فوٹوگرافر نے نام نہ بتانے کی شرط پر الجزیرہ نیٹ ورک کو بتایا ہے کہ بہت سے فوٹوگرافروں کو پابند سلاسل کردیا گیا ہے اور ان سے نہایت وحشیانہ انداز سے تفتیش کی جارہی ہے اور ان سب کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ ریلیوں کے زمانے میں لی گئی تمام تصویریں آل خلیفی حکام کے سپرد کردیں۔ ادھر روزنامہ الوسط کے سابق چیف ایڈیٹر اور ان کے تین ساتھی آل خلیفی حکمرانوں کی عدالت میں مقدمے کا انتظار کررہے ہیں۔ رپورترز ودآؤٹ بارڈرز (Reporters Without Borders) نے بھی اپنے بیان میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ آل خلیفہ کے تشدد آمیز برتاؤ پر تنقید کرتے ہوئے آل خلیفی حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ ان بیرونی نامہ نگاروں کے ساتھ جبر پر مبنی برتاؤ کا سلسلہ ترک کردیں جو بحرین میں حالیہ احتجاجات کو کوریج دینا چاہتے ہیں۔ اس بین الاقوامی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بحرین کی حکومت ذرائع ابلاغ کی حمایت کے حوالے سے ایک سو انیسویں درجے پر تھی اور اب یہ حکومت اس حوالے سے ایک سو چوالیسویں درجے تک گرچکی ہے۔ انٹرنیشنل یونین آف جرنلسٹس (International Union of Journalists) نے بھی اپنے بیان میں روزنامہ نویسوں اور ذرائع ابلاغ کو ڈرانے دھمکانے کی آل خلیفی پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے اس ملک میں ذرائع ابلاغ کے لئے کھلا ماحول فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور اعلان کیا کہ یہ شہریوں کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے ملک کی صورت حال سے آگاہ ہوں۔ دریں اثناء آل خلیفہ حکام کے زیر کنٹرول "یونین آف بحرینی جرنلسٹس" نے کہا ہے کہ بحرین میں کسی قسم کا کوئی تشدد روا نہیں رکھا جاتا تا ہم بحرین کی صورت حال بہت حساس ہے اور انٹرنیشنل یونین آف جرنلسٹس کو بحرین کی صورت حال سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔۔۔یونین آف بحرینی جرنلسٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سیاسی و ابلاغی مبصر نے کہا ہے کہ اس یونین نے یہ بیان دے کر در حقیقت ضمنی طور پر جرنلسٹوں کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے مظالم اور بحرین میں شدید گھٹن کی فضا کی تصدیق کردی ہے۔..........

/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت