22 مئی 2011 - 19:30

بحرین کے ایک انقلابی راہنما کا کہنا تھا کہ ملت بحرین کی حمایت کی عالمی اتحاد کی رکن نے بحرین میں آل سعود کے اہداف و مقاصد، عوام کے مطالبات اور ایران پر آل خلیفہ کے مضحکہ خیز الزامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود خاندان بحرین پر دائمی قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لندن میں مقیم بحرینی سیاستدان اور عالمی اتحاد برائے حمایتِ ملتِ بحرین کے رکن "قاسم الہاشمی" نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل سیاسی قیدیوں ـ بالخصوص انقلابی راہنماؤں  ـ کی صورت حال کو افسوسناک قرار دیا اور کہا: قیدیوں کی جسمانی حالت نہایت افوسناک ہے اور بحرین کے اسپتالوں میں ہمارے دوستوں نے بتایا ہے کہ ان اسپتالوں میں ایسے قیدی زیر علاج ہیں جن کے ہاتھوں، ٹانگوں حتی کہ سروں کی بعض ہڈیان اور کھوپڑیاں توڑ دی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قید ہونے والے افراد مسلسل ٹارچر کئے جارہے ہیں۔  الہاشمی نے کہا کہ آل خلیفہ کے گماشتے اسپتالوں سے فارغ ہونے والے قیدیوں کو دوبارہ تشدد اور ٹارچر کا نشانہ بناتے ہیں۔انھوں نے بحرین میں آل سعود کی افواج کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل سعود کے فوجی بحرین میں ہمیشہ کے لئے رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کا یہ عمل بحرین پر دائمی قبضے کے زمرے میں آتا ہے؛ آل سعود نے بحرین میں جزیرہ نما شیلڈ کے نام پر ایک بڑا فوجی اڈا قائم کیا ہے تاہم حقیقت میں یہ اڈا جزیرہ نما شیلڈ کا نہیں بلکہ آل سعود کی فوج کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بحرین کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے بالکل واضح ہوگیا ہے کہ آل خلیفہ خاندان بحرین کا حاکم نہیں رہا بلکہ آل سعود اس ملک کا حاکم ہے اور آل سعود کی افواج کے آنے کا مقصد واپس لوٹنا نہیں ہے بلکہ وہ ہمیشہ کے لئے اس ملک میں رہنے کے لئے آئی ہیں تا کہ آل سعود کا "خلیج فارس کنفیڈریشن" کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے. جس میں بحرین، قطر، امارات، کویت اور عمان شامل ہونگے۔ انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت بھی اس سلسلے میں آل سعود کی مدد کررہا ہے اور مصر میں آل سعود کے اتحادی حسنی مبارک کی سرنگونی کے بعد آل سعود خاندان خلیج فارس کی عرب ریاستوں پر مکمل تسلط جمانے کی کوشش کررہا ہے تا کہ ایک نئی قوت بنا کر عراق، شام، لبنان، تیونس اور مصر جیسے عرب ممالک کے سامنے کھڑا ہوسکے اور ان کا مقابلہ کرسکے۔ انھوں نے آل خلیفہ خاندان کی طرف سے ایران کے خلاف لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کے اسباب بیان کرتے ہوئے کہا: آل خلیفہ حکام مسلسل آگے کی طرف بھاگنے (Escaping Forward) کی پالیسی پر کاربند ہیں اور جہاں بھی وہ اپنے مسائل حل کرنے میں بے بسی محسوس کرتے ہیں بحرین کے واقعات کو ایران سے نسبت دیتے ہیں اور ایران کو مورد الزام ٹہراتے ہیں؛ یہاں تک کہ اگر بحرین میں پانی بند ہوجائے یا بجلی کے کنکشن منقطع ہوجائیں یا پھر ملک میں آکسیجن کی کمی واقع ہوجائے اور سانس لینا دشوار ہو تو آل خلیفی حکمران ان تمام مسائل کا الزام بھی ایران پر دھر لیں گے!۔ہاشمی نے مزید کہا: یہ نمائش طویل عرصے تک چل نہیں سکے گی کیونکہ بحرین کے شیعہ اور سنی تو کیا، کویت کے عوام بھی ان الزامات کی تأئید نہیں کریں گے۔ مثال کے طور پر آل خلیفی بادشاہ نے ایک ماہ قبل دعوی کیا کہ انھوں نے ایک شدت پسند گروہ کا سراغ لگایا ہے جو 30 برسوں سے ایران سے مالی اور فوجی مدد حاصل کرتا رہا ہے اور پھر دو ہفتے قبل اسی شخص نے بحرین کے ٹیلی ویژن اسکرین پر ظاہر ہوکر دعوی کیا کہ ایران بحرین کا اہم دوست اور ہمسایہ ہے اور بحرین اور ایران کے درمیان کوئی تنازعہ نہیں ہے!!۔انھوں نے کہا: یقینی امر ہے کہ بحرین کے عوام آل خلیفہ حکام کی یہ بدوی اور گھسی پھٹی منطق قبول نہیں کرسکتے بلکہ اس مضحکہ خیز منطق کا مذاق اڑاتے ہیں کیونکہ آل خلیفہ کے دعوے متضاد ہیں۔انھوں نے بحرینی عوام کی انقلابی تحریک کے اغراض و مقاصد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عزت و احترام اور ہماری انسانی کرامت آل خلیفہ کی حکومت کی جانب سے محفوظ رہے اور آل خلیفی حکام ہمارے ساتھ انسانوں جیسا برتاؤ روا رکھے۔ بحرین کے عوام نے اپنی نہایت پر امن تحریک میں 30 شہیدوں کی قربانی دے کر صرف یہی مطالبات پیش کئے ہیں اور وہ بحرین میں آئینی بادشاہت کے خواہاں ہیں۔ الہاشمی نے آخر میں کہا: بحرینی قوم جبر و ستم، وسیع گرفتاریوں، ٹارچر اور قتل و غارت کے باوجود اپنے مطالبات سے پسپا نہیں ہوئے اور اپنے اہداف و مقاصد کے حصول تک ہرگز مایوس نہ ہونگے۔ لوگوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنے مطالبات پر امن انداز سے پیش کرتے رہیں گے لیکن اگر آل خلیفہ حکومت جنون اور دیوانگی کی حد تک آگے بڑھی تو بحرینی عوام کے پاس بھی پر امن رہنے کا جواز باقی نہ رہے گا اور بحرینی قوم کو بھی مسلحانہ جدوجہد کا سہارا لینا پڑے گا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت