ابنا: چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے انتخابی فہرستوں سے متعلق عمران خان کی آئینی درخواست کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے بغیر انتخابی فہرستیں نہیں بن سکتیں اور اٹھارویں ترمیم کے بعد ہونے والی ضمنی انتخابات آئین کے مطابق نہیں ، ایسا کیا جائے تو ضمنی انتخابات کی کیا حثیت ہو گی،عدالت حکومت کو دو ماہ سے بتا رہی ہے کہ یہ اقدام درست نہیں حکومت کو عدالت کی جانب سے وقت دیا جا رہا ہے کہ الیکشن کمیشن خود نوٹی فی کیشن ،کالعدم قرار دے ۔چیف جسٹس ن اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت فی الحال تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اگر حکومت نے حل نہ نکالا تو مناسب احکامات جاری کرینگے۔ عدالت نے حکومت کو الیکشن کمیشن کی تشکیل کیلئے3ہفتے کی مہلت دے دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز