16 مئی 2011 - 19:30

اسلام آباد...قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ پاک امریکا چھپن چھپائی کے مذاکرات کاسلسلہ ختم کرنا پڑیگا،امریکاکے ساتھ کوئی بھی خفیہ معاہدہ ہمیں قبول ہوگا نہ ہائی ویلیوٹارگٹ کیخلاف امریکامشترکہ آپریشن،ایبٹ آباد آپریشن کی تحقیقات کیلئے جلد کمیشن قائم کیا جائے۔

 ابنا: پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قرار دادکے3دن گزرنے کے بعدحکومت پھرباتوں میں آگئی،اگرحکومت کوامریکاسے معاملات ٹھیک کرنے تھے تو اجلاس کافائدہ نہیں،میڈیاسے پتاچلاپاک امریکاحکومتوں میں نئے کوڈآف کنڈکٹ پراتفاق ہوگیا،کیری سے حکومت کے نئے معاہدے پرہمیں اعتمادمیں نہیں لیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قراردادکی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ڈرون حملے ہوگئے،سینیٹرجان کیری کی پاکستان میں موجودگی میں ڈرون حملے ہوئے اور نیٹونے پاکستانی حدودکی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون حملے پارلیمنٹ کی مشترکہ قراردادکے منافی تھے،اس کے بعد نیٹو کی سپلائی بند ہونی چاہئے تھی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور ۔چودھری نثار نے کہاکہ پوری بریفنگ میں کوئی نکتہ ایسانہیں تھاجس کے بارے میں پتانہ ہو،بریفنگ تو دو گھنٹے میں ختم ہوگئی تھی، 9گھنٹے تو قرار داد پر اتفاق رائے میں لگے۔ انہوں نے بتایا کہ ق لیگ اور پی پی نے مشترکہ اجلاس کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی، بریفنگ کے شروع ہوتے ہی قرارداداراکین پارلیمنٹ کودی گئی۔انہوں نے کہا کہ اجلاس نام نہاد خفیہ تھا،اِن کیمراسیشن کیوجہ سے اصل واقعات سے عوام،میڈیابے خبررہے،ہم نے پہلے ہی اجلاس کو اوپن رکھنے کی درخواست کی تھی۔ انہو ں نے کہا کہ عوامی نمایندوں کی ذمے داری تھی کہ ضابطے کی پابندی کرتے،اجلاس کی کارروائی کوحکومتی نمایندے پوائنٹ اسکورنگ کیلئے استعمال کررہے ہیں،بریفنگ کوحکومتی نمایندے توڑمروڑکرپیش کررہے ہیں، میڈیا کو چن چن کرغلط خبریں فیڈکی جارہی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں پتاہے کون کس کوکس طرح خبردے رہاہے،اگرحالات اسی طرح رہے توچنددنوں میں حقائق سامنے لائیں گے،تاہم وہ کسی حساس مسئلے کوافشانہیں کرینگے۔چودھری نثار کے مطابق ہمیں کہاگیادفترخارجہ کی تیارکردہ قراردادپراتفاق کیا جائے، قراردادکے تحفظ کی ذمے داری افواج پاکستان کی ہے۔مسلح افواج نے رہنمائی مانگی اورپارلیمنٹ نے انکی رہنمائی کی،حکومت کے ساتھ معاہدہ ڈیفنس فورسزکی یقین دہانی پرکیا،ڈیفنس فورسزنے کہاپارلیمنٹ ڈائرکشن دے ہم عمل کرینگے،آزاد پارلیمانی کمیشن کیلئے حکومت کو سات نام بھجوائیں گے، جن سول سوسائٹی، سیاستدان ،جج اور وکلاء کے نمائندے شامل ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز

 بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت