16 مئی 2011 - 19:30

انسانی حقوق مرکز کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں اکثر قیدیوں کو ٹارچر، اذیت و آزار اور تشدد کا سامنا ہے۔

ابل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نبیل رجب نے العالم نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں قید اکثر قیدیوں کو ٹارچر کیا جارہا ہے، انہیں مارا پیٹا جاتا ہے انہیں بجلی کے جھٹکے دیئے جاتے ہیں اور ان پر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نبیل رجب نے مزید کہا کہ رہا ہونے والی تمام افراد کے ہاتھ پاؤں نیلے یا سیاہ ہوتے ہیں کیونکہ انہیں چھتوں سے لٹکایا جاتا ہے اور ان کے ہاتھوں، پیروں اور جسموں پر غیر انسانی تشدد کیا جاتا ہے چنانچہ برسر اقتدار خاندان مستقبل قریب میں اپنی عالمی رسوائی سے خوفزدہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت قیدیوں کے اہل خانہ کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دیتی، بحرین میں قیدیوں کی صورت حال سے آگہی حاصل کرنے کے لئے امریکہ اور برطانیہ سے آئے ہوئے انسانی حقوق کے معائنہ کاروں کو کسی صورت میں بھی قیدیوں سے ملنے کی اجازت نہیں دیتی اور صورت حال یہ ہے کہ اکثر قیدیوں پر آل خلیفی فوجی عدالت میں مقدمے چلائے گئے ہیں اور انہیں سزائیں سنائی گئی ہیں لیکن ان کو پھر بھی اہل خانہ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ اور رجب نے واضح کیا کہ آل خلیفہ حکومت بحرینی قوم کے فرزندوں کے خلاف جو اقدامات کررہی ہے وہ در حقیقت انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور ہم اس وقت انسانی المئے سے گذر رہے ہیں اور ہمیں بحرین میں بین الاقوامی مداخلت کی ضرورت ہے تا کہ ان جرائم کو روکا جاسکے، ہمارے ملک میں نظام حکومت فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کررہی ہے، لوگوں کو بھوکا رکھنے اور ان کے معاشی وسائل چھیننے کی سازشوں پر عمل کر رہی ہے جس طرح کہ اس ملک میں عبادت کے مقامات اور مساجد کو شہید کیا جارہا ہے اور دیہاتوں اور گھروں کو منہدم کیا جارہا ہے اور ہمارے یہاں ایک جبر اور استبداد اور آمریت کا نظام ہے جو ان سب جرائم کا ارتکاب کررہی ہے۔نبیل رجب نے مزید کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں ایسی عدالتیں ہیں جو اپنے ملک سے باہر بھی انسانیت کے خلاف ہونے والی اقدامات کا نوٹس لیتی ہیں لہذا تمام بحرینی عوام، انسانی حقوق کے فعال راہنماؤں اور کارکنوں [نیز دنیا کی انصاف پسندوں] سے اپیل کی جاتی ہے کہ آل خلیفہ اور آل سعود کے مظالم کا کیس ان عدالتوں میں اٹھائیں اور انہیں بتائیں کہ آل سعود اور آل خلیفہ بحرین میں انسانوں کے تمام بنیادی حقوق پامال کررہے ہیں۔یادرہے کہ ہم بھی انٹرنیٹ کے صارفین ہیں اور ہم بھی دنیا کے انسانی حقوق کے اداروں کو ہر روز کم از کم ایک ایمیل کے ذریعے اس دن کے حوالے سے بحرین کی فریاد پہنچا سکتے ہیں۔

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز

 بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

- ممثل الملك يخير "الخواجة" ما بين الاغتصاب أو الاعتذار لـ "حمد" !

- Prominent Human Rights Activist Threatened with Rape