اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں پرامن اور مہذب انداز سے اپنے جمہوری حقوق کے مطالبے کے لئے مظاہرے اور ریلیاں منعقد کرنے والے شہریوں کے خلاف غیر انسانی اور وحشیانہ روشیں استعمال کی گئی ہیں اور پر امن شہریوں کے خلاف مندرجہ ذیل غیر انسانی اقدامات ہوئے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ 1۔ مظاہرین اور معترضین کا قتل عام14 فروری 2011 سے لے کر کم از کم 30 بحرینی شہری قابض آل سعود اور غاصب آل خلیفہ کے کرائے کے جلادوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ہیں۔2۔ جیلوں میں تشدد اور قتل26 اپریل تک 5 بحرینی شہری نہایت مشکوک حالت میں جیلوں میں قتل ہوئے ہیں جبکہ ان کے جسموں پر آزار و اذیت اور تشدد کے نشانات ہویدا تھے اور ان کے جسموں کا کوئی حصہ بھی تشدد سے محفوظ نہیں بچا تھا۔ آل خلیفہ کے حکام نے حتی ان کے پوسٹ مارٹم کی اجازت بھی نہیں دی۔ 3۔ خواتین سیاسی و سماجی کارکنوں کا قتل، خواتین پر تشدد اور زیادتی ویسے تو 100 سی زاید خواتین آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں بند ہیں اور کئی ابھی تک قتل ہوچکی ہیں تا ہم 20 سالہ شاعرہ آیات القُرمُزی کا کیس خاص طور پر انسانی حقوق کی تنظیموں کے نزدیک خاص طور پر قابل ذکر ہے جنہیں 30 مارچ کو گھر سے اغوا کیا گیا ہے اور ان کے بارے میں کوئی اطلاع دستیاب نہیں ہے اور ان کے اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق آل خلیفی ولیعہد سلمان بن حمد بن عیسی نے ذاتی طور پر ان پر تشدد کیا ہے اور انہیں مارا پیٹا ہے اور آل خلیفی گماشتوں نے ان پر زیادتی کی ہے۔ 100 سے زاید اسیر خواتین میں 10 لیڈی ڈاکٹرز اور 6 ٹیچرز بھی شامل ہیں۔ 4۔ تمام طبی مراکز کی ناکہ بندیبحرین کے تقریباً تمام اسپتال اور کیلینکس نیز ڈسپنسریوں کے گرد آل سعود اور آل خلیفہ کے گماشتوں نے ناکے لگائے ہوئے ہیں، زخمیوں کو اسپتالوں سے اغوا کیا جاتا ہے اور ڈاکٹروں کی اکثریت جیلوں میں ہے جن میں سے کئی ڈاکٹروں کو اپنے حلف پر عمل کرکے زخمیوں کے علاج کی پاداش میں فوجی عدالت میں مقدمات کا سامنا ہے۔ منامہ کا سلمانیہ اسپتال آل خلیفہ اور آل سعود کی فورسز کے قبضے میں ہے اور اگر کوئی زخمی اس اسپتال میں علاج معالجے کے لئے داخل کیا جائے تو اس کو فوری طور پر گرفتار کیا جاتا ہے۔ اس اسپتال کے عملے کے دسیوں اراکین کو برخاست کرکے قید کیا گیا ہے۔ 5۔ راتوں کو گھروں سے اغوا کی وارداتیں کئی سو افراد کو راتوں کے وقت ان کے گھروں سے اٹھاکر اغوا کیا گیا ہے جن میں انسانی حقوق کے فعال کارکن عبدالہادی الخواجہ اور محمد التاجر بھی شامل ہیں۔ عبدالہادی الخواجہ کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہیں شدید ترین ٹارچر کا سامنا ہے؛ آل خلیفہ اور آل سعود کے جلاد انہیں زخمی کردیتے ہیں اور زخموں کو ٹانکے لگواتے ہیں اور پھر ٹانکوں کے مقام پر دوبارہ زخم لگائے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں صحیح اطلاعات کسی کے پاس نہیں ہیں لیکن جن لوگوں نے انہیں ملٹری اسپتال میں دیکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ عبدالہادی الخواجہ کا چہرہ تشدد کی وجہ سے بدل گیا ہے اور پہچاننے کے قابل نہیں رہے ہیں اور وہ نہ تو کچھ بول سکتے ہیں اور نہ ہی اٹھ کر بیٹھ سکتے ہیں۔ 6۔ اساتذہ اور طلبہ کی برخاستگیاب تک بحرین کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے 200 سے زاید طلبہ اور 40 سے زائد اساتذہ اور تعلیمی مراکز کے عملے کے دوسری اراکین برخاست کئے گئے ہیں اور بعد میں انہیں آل خلیفہ اور آل سعود کے اذیتکدوں میں پہنچایا جاچکا ہے۔ 7۔ ہڑتالوں میں شریک مزدوروں اور کارکنوں کی برخاستگی12 اپریل 2011تک 652 مزدور اور کارکنوں کو برخاست کیا گیا تھا لیکن جدید ترین اعداد و شمار کے مطابق برخاست شدہ مزدوروں اور سرکاری ملازمین کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے اور صورت حال یہ ہے کہ وزارت تیل کے اکثر کارکنوں کی برخاستگی کی بنا پر بحرین کی تیل کی پیداوار میں شدید کمی آئی ہے۔ 8۔ عالمی قوانین میں تسلیم شدہ مزدور یونینوں کے خلاف کاروائیاںآل خلیفہ اور آل سعود نے تیل صنعت کی مزدور یونین، اساتذہ یونین اور نرس یونین کو ختم کرنے کے لئے ان کے سربراہوں کو گرفتار کرلیا ہے اور ان تین یونینوں کے ہزاروں اراکین کو کام سے برخاست اور سینکڑوں کو پابند سلاسل کردیا ہے۔ 9۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کی برخاستگی اور گرفتاریانقلاب بحرین کے آغاز سے اب تک ہزاروں افراد آل سعود اور آل خلیفہ کے ہاتھوں زخمی ہوئے ہیں اور انہیں بحرینی ڈاکٹروں اور نرسوں نے علاج معالجے کی سہولیات بہم پہنچائی ہیں چنانچہ آل خلیفہ اور آل سعود ان تمام ڈاکٹروں اور نرسوں کو گرفتار کرچکے ہیں جنہوں نے اپنے فریضہ منصبی کے تحت دکھی انسانیت کا علاج معالجہ کیا ہے۔ 10۔ مظاہرین پر حد سے زیادہ تشدد اور انہیں کچلنے کے لئے ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمالویسے تو یہ بات اپنی جگہ ایک سوال ہی ہے کہ تشدد کی حد کیا ہوتی ہے؟ کیا تشدد ایک خاص حد تک جائز ہے؟ لیکن ہم بھی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹوں کے پیش نظر یہاں یہ لکھنے پر مجبور ہیں کہ بحرین میں آل خلیفی غاصبین اور آل سعودی قابضین حد سے زیاده تشدد کررہے ہیں، وہ عوام کے خلاف ریپیٹرز بندوقوں کا کھلا استعمال کررہے ہیں، ان کے خلاف زہریلی گیسیں استعمال کرتے ہیں اور ان کے گھروں میں صوتی بم پھینکتے ہیں جبکہ عالمی قوانین کے تحت مظاہرین کے خلاف ان ہتھیاروں کا استعمال منع ہے، پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد منع ہے اور گھروں کو نشانہ بنا کر بچوں اور خواتین کو ہراساں کرنا انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ 11۔ مذہبی مقامات پر حملےاب تک بحرین میں آل خلیفہ اور آل سعود نے 70 سے زائد مساجد اور حسینیات کو شہید کردیا ہے اور قرآن کے دسیوں نسخوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ اور یہ سب طے شدہ منصوبے کے تحت ہورہا ہے جبکہ یہ اقدام بھی عالمی قوانین کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ 12۔ سیاسی قائدین کے گھروں کو منہدم کرنا قابض آل سعود اور غاصب آل خلیفہ نے اب تک متعدد سیاسی قائدین کی رہائشگاہوں کو منہدم کردیا یا نذر آتس کیا ہے۔ 13۔ قبرستانوں پر حملہقابض آل سعود اور غاصب آل خلیفہ نے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی نیت سے قبرستانوں کو بھی اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا ہے اور کئی مرحومین کی لاشیں اکھاڑ پھینکی ہیں جس سے فرقہ وارانہ تعصب کا شائبہ بخوبی واضح ہے اور اس کی مثال پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کی کارکردگی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ 14۔ شیعہ اور سنی انقلاب عوام کو فرقہ واریت میں الجھاناآل خلیفہ اور آل خلیفہ کے غاصبین اور قابضین سے وابستہ نقاب پوش غنڈوں نے متعدد بار شیعہ دینی مراکز پر حملے کرکے یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ گویا یہ حملے بحرین کی مقامی سنی آبادی کی طرف سے ہورہے ہیں اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اہل تشیع کو اہل تسنن کے خلاف اشتعال دلایا جائے اور بحرین میں فرقہ وارانہ جھڑپیں شروع کروائی جائیں اور دنیا والوں کو کہہ دیا جائے کہ بحرین میں واقعی کوئی انقلاب شروع نہیں آیا بلکہ یہ سب صرف ایک فرقہ وارانہ فتنہ ہے جبکہ بحرین کے شیعہ اور سنی عوام انقلاب میں برابر کے شریک ہیں اور وہ اس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔............
/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز
بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت
پلیز