اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق الوفاق الاسلامی الوطنی جمعیت کے سیکریٹری جنرل شیخ علی سلمان نے کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت روز بروز اپنے جبر میں شدت لارہی ہے، عوام کو نوکریوں سے نکال رہی ہے اور بیرونی فورسز کی مدد سے عوامی احتجاج کو کچلنے پر اصرار کررہی ہے جبکہ اس ملک کی اکثریت ہی آل خلیفہ حکمرانی کے خلاف ہے۔شیخ علی سلمان نے سوال اٹھایا: یہ صورت حال کب تک جاری رہ سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: اپوزیشن جماعتیں عوام کو اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھنے کی دعوت دیتی ہیں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ بحرینی نوجوان کب تک ہماری اس دعوت کی پابندی کرسکیں گے اور پر امن جدوجہد کو کب تک جاری رکھ سکیں گے؟۔انھوں نے منامہ میں ہی ایک انٹرویو کے دوران کہا: نوجوانوں کا غصہ ضرور شدید سے شدیدتر ہوگا کیونکہ وہ اپنی آنکھوں سے اپنے بھائیوں حتی بہنوں کی گرفتاریاں دیکھ رہے ہیں اور اپنے والدین کو سرکاری اداروں اور کمپنیوں سے برخاست ہوتا دیکھ رہے ہیں ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ان نوجوانوں کو پر امن جدوجہد کا پابند رکھا جائے؟ یقینی امر ہے کہ حکومت کے ان اقدامات سے جدوجہد میں شدت آئے گی۔ انھوں نے کہا: کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک تحریک کو اس صورت حال میں بھی اپنے اصولوں کے مطابق پر امن انداز سے آگے بڑھا سکے اور نوجوانوں کے غضب کے عظیم دھماکے کا سد باب کرسکے۔ یاد رہے کہ جمعیت الوفاق بحرین کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے جس نے گذشتہ سال کے پارلیمانی انتخابات میں آل خلیفی دھاندلیوں کے باوجود 40 رکنی پارلیمنٹ میں اٹھارہ سیٹیں حاصل کی تھیں اور جب وسط فروری میں آل خلیفہ نے تشدد آمیز کاروائیاں کرکے آٹھ نوجوانوں کو شہید کیا تو اپوزیشن کے اٹھارہ شیعہ اور چار سنی ارکان پارلیمان نے استعفے دیئے اور یوں بحرینی پارلیمان مکمل طور پر تحلیل ہوگئی اور یوں بحرینی آل خلیفہ کی واحد جمہوری علامت بھی رخصت ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
20 اپریل 2011 - 19:30
News ID: 237745
بحرین کی اہم سیاسی جماعت نے بدھ کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر آل خلیفہ کی حکومت نے عوام کو کچلنے کا عمل بند نہ کیا اور انقلابی عوام کو سرکاری اداروں سے برخاست کرنے کا عمل نہ روکا تو اس ملک کے انقلابی نوجوانوں کا غم و غصہ دھماکے سے پھٹ سکتا ہے۔