اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں گذشتہ راتوں کی طرح کل رات بھی انتفاضہ تکبیر کا سلسلہ جاری رہا۔ بحرین کے تمام علاقوں کے لوگوں نے کئی بار چھتوں پر چڑھ کر اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے لگائے اور اپنے جائز حقوق کے حصول پر اصرار کرتے ہوئے آل خلیفی حکومت کے خاتمے اور اجنبی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا۔وسط مارچ میں بحرین پر بیرونی جارحیت کے بعد سے انتفاضہ تکبیر کا سلسلہ ہر رات دارالحکومت منامہ سمیت بحرین کے مختلف شہروں اور قصبوں مین تسلسل کے ساتھ جاری ہے لیکن کیا آل سعود اور آل خلیفہ سے وابستہ درندے مسلمان بھی ہیں؟ کیا انہیں کبھی احساس بھی ہوتا ہے کہ تکبیر کا نعرہ اسلام کا شعار ہے اور جن لوگوں کو وہ ظلم و جبر کا نشانہ بنا رہے ہیں وہی راتوں کو اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں؟ اور دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اکبر کے نعروں سے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں کیا انہیں دبانے کے لئے بیرونی افواچ لانے کی ضرورت ہے؟ اور کیا پیسہ پرست بیرونی حکمرانوں کو نہیں سوچنا چاہئے کہ اتنے مہذب اور پر امن لوگوں کو کچلنے اور بحرین پر صدیوں سے مسلط مطلق العنان حکمرانوں کے لئے انہیں اپنے فوجیں بھیجتے ہوئے لمحہ بھر سوچنا بھی چاہئے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
