9 اپریل 2011 - 19:30

عراقی حکومت نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایم کے او ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور عراق میں اس کی چھاؤنی غیرقانونی ہے۔

ابنا: عراقی حکومت کے ترجمان علی الدباغ نے عراق کے شہر خالص میں ایم کے او کی اشرف نامی چھاؤنی پر عراقی سیکورٹی فورسز کے حملے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ لڑائی اس وقت شروع ہوئي جب اشرف چھاؤنی کے تقریبا سو دہشت گردوں نے عراقی سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا ۔ عراقی حکومت کے ترجمان نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایم کے او کے دہشت گردوں نے عراق اور علاقے کے ملکوں کے لئے مشکلات پیدا کررکھی ہيں بین الاقوامی اداروں سے کہا کہ عراق کو اس دہشت گرد گروہ سے چھٹکارہ دلانے کے لئے عراقی حکومت کی مدد کریں۔ عراقی حکومت کے ترجمان نے کہاکہ ملک کا بنیادی آئین اس بات کی اجازت نہيں دیتا کہ mkoجیسا کوئی بھی دہشت گرد گروہ اس کی سرزمین پر سرگرم رہے اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ عراق کے تعلقات خراب کرے ۔واضح رہے انقلاب دشمن دہشت گرد گروہ MKOنے ایران میں اسلامی جمہوری حکومت کے قیام کے بعد ایران کے اندر بہت سی دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دیں جن میں ملک کے اعلی ترین حکام اور عام شہری شہید ہوئے ہيں دوسری طرف جب عراقی حکومت اس دہشت گرد گروہ کو اپنے ملک سے نکالنے کے لئے عالمی اداروں سے مدد مانگ رہی ہے امریکہ نے عراقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس گروہ کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے امریکی وزیر جنگ رابرٹ گیٹس نے ایم کے او کی چھاؤنی پر عراقی سیکورٹی فورسز کے حملے کے بعد دہشت گردوں کی حمایت میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عراقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ صبر وتحمل سے کام لے۔ اس درمیان عراقی وزیر اعظم کے مشیر علی الموسوی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اب اس سے زیادہ اس دہشت گرد گروہ کی دہشت گردانہ کاروائیوں کو تحمل نہيں کرسکتا ۔ امریکہ نے ایم کے او دہشت گرد گروہ کے ساتھ نرمی برتنے کی عراقی حکومت سے یہ درخواست ایسے وقت کی ہے جب وہ خود اس گروہ کو دہشت گرد قراردے چکا ہے ۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔

/110