29 مارچ 2011 - 19:30

امریکہ اور نیٹو کی سرکردگی میں مغربی ملکوں کے جنگی طیاروں نے لیبیا کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے ۔

ابنا: مغربی ملکوں کے جنگی طیاروں نے گریان اور مزداح شہروں کے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے جس میں بہت سے عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوگئے یہ دونوں شہر دارالحکومت طرابلس سے جنوب میں100 اور 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں ۔ گذشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جب سے مغربی ملکوں نے لیبیا پر ہوائی حملے شروع کئے ہیں ان حملوں میں اب تک سیکڑوں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوچکے ہيں ۔ لیبیا کے شہریوں پر یہ بمباری ایک ایسے وقت ہورہی ہے جب امریکی صدر باراک اوبامہ نے اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ امریکہ اور نیٹو نے لیبیائی عوام کی جان کی حفاظت کے لئے لیبیا میں ہوائی کاروائی کا فیصلہ کیا ہے ۔ امریکی صدر کے بیان میں اس بات کی طرف کوئی اشارہ نہيں کیا گیا کہ امریکہ اور مغربی ملکوں نے قذافی کی فوج کے ہاتھوں ایک ماہ تک لیبیائی شہریوں کے ہونےوالے قتل عام پر خاموشی کیوں اختیار کئے رکھی ۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ لیبیا میں زمینی فوج اتارنے کی غلطی نہيں کریں گے انہوں نے کہاکہ لیبیا میں اس غلطی کی تکرار نہيں ہوگی جو عراق میں کی گئی ۔ لیبیا کے شہریوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ملکوں نے لیبیا پر امریکہ اور نیٹو کے ہوائی حملوں کی مذمت کی ہے اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو نے لیبیا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لئے یہ اقدامات انجام دئے ہيں ۔ دوسری طرف لیبیا کے اہم شہر مصراتہ میں انقلابیوں اور قذافی کی فوج کے درمیان لڑائی جارہی ہے۔ دونوں طرف سے اپنی اپنی کامیابیوں کے دعوے کئے جارہے ہيں مصراتہ سےموصول ہونےوالی خبروں میں کہا گیا ہے قذافی کی فوج مصراتہ پر زبردست گولہ باری کررہی ہے اور اس نےشہر کا محاصرہ کررکھا ہے مگر انقلابیوں نے اب تک پوری پائمردی کے ساتھ قذافی کی فوج کا مقابلہ کیا ہے ۔ قذافی کی فوج کی شدید گولہ باری کی وجہ سے اس وقت شہر کا کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں رہ گیا ہے ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110