27 مارچ 2011 - 19:30

آل سعود کے شیڈو پرنس کہلانے والے شہزادے بندر بن سلطان اپنی خاص طبیعیت اور کاموں کی وجہ سے اکثر بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں میں رہتے ہیں۔

ابنا:

آل سعود خاندان میں اقتدار کے بٹوارے میں اس وقت انہیں نیشنل سیکوریٹی کونسل کی سربراہی کا عہدہ ملا ہے اگرچہ وہ شاہ عبداللہ کے خلاف تختہ الٹنے کی سازش میں بھی بدنام ہوئے ہیں اور ایک بڑے عرصے تک غائب رہے ہیں جس کے سبب دنیا کے میڈیا نے ان کے قتل ہوجانے کی افوائیں بھی پھیلائیں ان کی ذاتی زندگی کے معاملات سے ہٹ کریہاں اہم سوال یہ ہے کہ بندر بن سلطان پاکستان کیوں آیا تھا ؟اور وزیر داخلہ کے ساتھ ملاقات میں وہ کیا امور تھے جن پر بات ہوچکی ہے کیونکہ اس ملاقات کو باہمی دلچسپی کے امور کا نام دیا گیا ہے تو یہ امور کیا ہوسکتے ہیں ؟ان امور پر گفتگو سے پہلے ضروری ہے کہ کچھ مشرق وسطیٰ کی کہی اور ان کہی پر گفتگو کی جائے شام میں اس وقت ہونے والے بعض چھوٹے چھوٹے مظاہروں کے بارے میں اسرائیلی کی مشہور سائٹ فلیکا نے انکشاف کیا ہے کہ ان مظاہروں میں امریکہ اور سعودی عرب ملوث ہیں اور بندر بن سلطان اس ٹاسک پر کام کرہا ہے سائٹ کے مطابق بندر بن سلطان اور لبنان میںسابق امریکی سفیر جیفری کی مشترکہ کوشش ہے کہ شام کو حجری دور میں پہنچا دیا جائے ۔

بندر بن سلطان پر عالمی میڈیا نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں سے راوابط رکھتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس وقت بحرین میں سعودی افواج بھیجنے میں بھی بندر بن سلطان کا بڑا کردار رہا ہے بندر بن سلطان ہم سے کیا چاہتا ہے ؟اور وہ دلچسپی کے امور کیا ہیں ؟بندر بن سلطان کا یہ دورہ اس دورے سے ایک دن پہلے انجام پارہا ہے جو بحرین کے عوامی سطح پر ناپسندیدہ حکومت کے وزیر خارجہ خالد نے کرنا ہے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بحرین میں مزید کرایے کی پولیس بھیجنے اور وہاں پر پاکستانیوں کے بارے میں پائی جانے والی نفرت کے پیش نظر وزرات خارجہ نے اپنے تحفظات پیش کیے ہیں اور بندر اور خالد کا یہ دورہ اسی تناظر میں ہورہا ہے ۔کیونکہ بحرین حکومت اس وقت خود اپنی عوام کے عتاب کا شکار ہے اور انہیں بیرونی کرایے کے قاتلوں اور سہاروں کی ضرورت ہے۔1ہمارے حکام کو چاہیے کہ وہ یہاں سے کسی طور بھی کرایے کے قاتل نہ بھیجیں اور بحرینیوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے دیں آخر کیا ضرورت پڑی ہے کہ ہم اور ہماری عوام دوسرے ممالک کے سو فیصد اندرونی مسائل میں مداخلت کریں اور ایک خاندان کی خاطر وہاں کی عوام کا قتل میں شریک ہوں ۔ہمیں کبھی بھی بحرینی عوام کی نفرتیں مول نہیں لینی چاہیں کیونکہ صرف بحرین کی عوام کی نفرت نہیں بلکہ تمام عرب ممالک کی عوام اور عالمی ضمیر کے سامنے ہم مجرم قرار دیے جاینگے۔زرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ میں جاری ہونے والی ووڈیوز اور فوٹوز کے مطابق پرل سکوائر کے وحشیانہ حملے میں بھی یہاں سے جانے والے افراد کو استعمال کیا گیا ہے ،یہ دنیا کا عجیب معاملہ ہے کہ اپنی فورسز کے رکھنے کے باوجود بیرونی کرایے کے افراد کے توسط سے اپنی عوام کا قتل عام کیا جارہا ہے اور ہم ہیں کہ اپنے ملکی قار اور عزت کو داﺅ پر لگاکر صرف ایک خاندان کی حمایت کے لئے دھڑادھڑ افراد بھیج رہے ہیںاور بندر بن سلطان کی یہاںا ٓمد بھی درحقیقت اسی کرایے کے قاتلوں کی ترسیل سے متعلق ہے کیونکہ آل سعود اپنی افواج بھیج کر بحرینی عوام کی مظلومیت اور استقامت کے دلدل میں پھنس چکا ہے اور اب آسانی سے وہاں سے نکل نہیں سکتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

صہیونی وہابی گٹھ جوڑ؛

- متنازعہ سعودی شیڈو پرنس لاپتہ / تصاویر دیکھنا نہ بھولیں