شیعت نیوز کی مانیٹرنگ ڈیسک کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق بحرین میں عوامی انقلابی تحریک کی کامیابی اور بحرینی عوامی استقامت کے پیش نظر بحرین سے بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں نے وطن واپسی کا رخ کر لیا ہے،جس کا سبب بحرینی عوام کی انقلابی تحریک میں پاکستانیوں سے شدید بیزاری بھی ہے۔واضح رہے کہ بحرین میں مقیم پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد بحرین نیشنل گارڈذ میں بھرتی ہوگئی ہے اور بحرینی انقلابی جدوجہد کو کچلنے اور عوام پر ظلم و ستم روا رکھنے میں انتہائی اقدام کر رہی ہے۔یہ بات یاد رہے کہ بحرین میں مقیم پاکستانی شہریوں کی 50000 تعداد اس وقت بحرین پولیس میں کام کر رہی ہے اور موصولہ اطلاعات کے مطابق بحرینی عوام کی جدوجہد اس بات کا پیش خیمہ بنی ہے کہ بحرین میں مقیم پاکستانی جو کہ بحرین نیشنل گارڈز میں حکومت کی پیروی کرتے ہوئے بحرینیوں کا قتل عام کر رہے ہیں واپس پاکستان کا رخ کر رہے ہیں،جس کو ماہرین بحرینی انقلابیوں کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ بحرین میں گذشتہ ماہ سے جاری انقلابی تحریک میں اب تک 24 نہتے اور معصوم بحرینی شہری بحرین پولیس کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں شہیدہو چکے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد پر امن مظاہرین بحرینی پولیس اور فورسز کے تشدد کی وجہ سے اسپتالوں میں شدید زخمی حالت میں موجود ہیں۔بحرین میں مقیم پاکستانی شہریوں کو اس وجہ سے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے کہ ایک بڑی تعداد میں پاکستانی بحرینی نیشنل گارڈز اور پولیس میں موجودہیں اور بحرینی غاصب ڈکٹیٹر آل خلیفہ کے حکم پر بحرینی انقلابیوں پر ظلم وستم روا رکھے ہوئے ہیں اور انقلاب کی عوامی بیداری کی تحریک کو کچلنے میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔بحرین میں مقیم ایک پاکستانی شہری نے ذرائع کو بتایا ہے کہ بحرین میں دوسرے ممالک کے شہریوں کی نسبت پاکستانیوں کو زیادہ پریشانیوں کا سامنا اس لئے زیادہ ہے کہ یہاں پر پاکستانی شہریوں کی بہت بڑی تعداد پولیس میں موجود ہے اور بحرینی عوام کے خلاف کریک ڈاؤن میں صف اول کاکردار ادا کر رہی ہے۔احمد چیمہ کاکہنا تھا کہ کہ پاکستانی شہری جوکہ بحرینی فورسز میں ہیں وہ صرف اور صرف بحرینی آل خلیفہ کے حکم پر پر امن مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں جس کے سبب بحرینی عوام میں پاکستانیوں سے نفرت کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ان تمام حالات کی وجہ سے بحرین میں مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے واپس اپنے وطن پہنچنے کی تگ و دو شروع کر دی ہے جس کے سبب مستقبل میں بحرینی پولیس اور حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا ہو گا، تاہم یہی بات بحرین میں انقلابی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دی جارہی ہے۔دوسری جانب پاکستانی جریدے روز نامہ ڈان نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان سے ایک ہزار شہریوں کی بھرتی کی گئی ہے جنہیں بحرین میں نیشنل گارڈز کی بھرتی میں بھیجا جائے گا اور اس کا مقصد بحرین میں انقلابی تحریک میں شامل پر مظاہرین کا قتل عام ہے۔
بشکریہ از شیعت نیوز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
بحرینی بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کی حمایت میں نکلنے والے جلوس بھی عام طور پر پاکستانی شہریوں کی طرف سے ہوتے تھے جن میں سے بعض کی تصویریں ملاحظه ہوں۔ البتہ دوسرے ممالک کے بے شمار شہریوں کی تصاویر بھی نیٹ پر موجود ہیں جو آل خلیفہ کے حامی تھے تا ہم ان کا اس رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔














