محمد المسقطی نے کہا کہ اگر فوج اور سیکورٹی فورسز نے میدان الشہداء (سابق پرل اسکوائر) پر حملہ کیا تو بچوں اور خواتین کو میدان سے نکال دیا جائے گا لیکن مرد میدان میں ڈٹے رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بحرین نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اس کی فوجی سرکاری تنصیبات اور عمارتوں کی حفاظت کے لئے بحرین میں داخل ہوئی ہیں لیکن بحرینیوں کی رائے یہ ہے کہ یہ فوجی بحرینی عوام کو کچلنے کے لئے آئے ہیں۔ السقطی نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی افواج کی طرف سے کسی بھی قسم کی مداخلت بیں الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور بحرین میں مداخلت جس کسی بھی فوج کی جانب سے ہو بین الاقوامی قوانین کے مطابق اس ملک پر قبضہ تصور کیا جاتا ہے۔انھوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ بیرونی قبضے کے مقابلے میں بحرینی عوام کی حمایت کرے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ بحرین کے مسائل بالکل اندرونی ہیں اور کسی بھی علاقائی اور عالمی فریق کو ہمارے اندرونی سیاسی اور فوجی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں پہنچتا۔ انھوں نے کہا کہ کل کے روز تمام سرکاری اور غیر سرکاری ادارے بند کردیئے گئے تھے حتی کہ پٹرول پمپ تک بند تھے۔ المسقطی نے کہا کہ ہمارے نوجوان مسلح افراد کو میدان شہداء میں نہیں داخل ہونے دیتے جبکہ آل خلیفہ کے غنڈے عوام کے بھیس میں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ میدان میں داخل ہوکر شرانگیزی کریں یا پھر سرکاری فورسز پر فائرنگ کرکے انقلابی عوام کے خلاف تشدد آمیز سرکاری کاروائیوں کا جواز فراہم کریں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔/110
15 مارچ 2011 - 20:30
News ID: 231652
بحرین ہیومین رائٹس یوتھ کے سربراہ نے کہا کہ بیرونی اقواج کی مداخلت ملک پر قبضہ سمجھی جاتی ہے۔