ابنا: بارہ مارچ کو ہونے والے اس اجلاس میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل عمرو موسی نے لیبیا میں نو فلائی زون قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس اجلاس میں یہ بھی اعلان کیا گيا کہ قذافی کی حکومت اپنا جواز کھو چکی ہے اور وہ اب ایک ناجائز حکومت ہے۔ قاہرہ میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں اس تنظیم کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ لیبیا کی عبوری قومی کونسل کے ساتھ تعاون اور لیبیا کے عوام کی حمایت کریں گے۔ عرب لیگ نے یہ موقف ایک ایسے وقت میں اختیار کیا ہے کہ جب چند روز قبل لیبیا کی عبوری قومی کونسل نے عرب ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بعض یورپی ممالک کی مانند اس کونسل کو تسلیم کر لیں۔ لیکن شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیبیا کے حالات کے بارے میں کوئي ٹھوس موقف اختیار کرنے کے سلسلے میں عرب لیگ کے رکن ملکوں کے درمیان اتفاق نظر نہیں پایا جاتا ہے۔ اگرچہ یورپی یونین نے بظاہر ہی سہی لیبیا کے حالات کے بارے میں تشویش اور قذافی کے جرائم و مظالم پر افسوس ظاہر کیا ہے لیکن عرب ممالک نے انتہائی کمزور ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس کے باوجود کہ عرب لیگ کے ہیڈ کوارٹر میں عرب ممالک کے کئی اجلاس منعقد ہوئے ہیں لیکن ان ممالک نے لیبیا کے ڈکٹیٹر کے ہاتھوں اس ملک کے عوام کے قتل عام کے خلاف کوئي سنجیدہ اقدام نہیں کیا ہے۔ عرب لیگ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ وہ لیبیا میں نوفلائی زون قائم کرنے کے لیے اقدام کرے۔ عرب لیگ نے یہ بہانہ کر کے کہ اس کے ارکان کے درمیان اس سلسلے میں اتفاق نظر نہیں پایا جاتا ہے، اس مسئلے سے خود کو علیحدہ کر لیا ہے۔ عرب لیگ نے اس وقت صرف اس بات پر اکتفا کیا ہے کہ لیبیا کی عبوری قومی کونسل کے ساتھ اس کا مستقل رابطہ ہے۔ عرب لیگ نے یہ کمزور موقف ایک ایسے وقت میں اختیار کیا ہے کہ جب لیبیا کے عوام اور اس کے تیل کنویں اور کارخانے قذافی کی خود پسندی کی آگ میں جل رہے ہیں۔ لیبیا کے شہروں خاص طور پر انقلابیوں کے زیرکنٹرول تیل پیدا کرنے والے شہروں میں گھمسان کی جنگ جاری ہے جس میں قذافی اپنی بھرپور فوجی طاقت استعمال کر رہا ہے اور عرب لیگ صرف اس کے جرائم کا نظارہ کر رہی ہے۔ اگرچہ اکثر عرب ممالک قذافی کی پالیسیوں کا مذاق اڑاتے تھے لیکن اس وقت کہ جب انہیں خود قذافی کی مانند عوامی احتجاج اور مظاہروں کا سامنا ہے، وہ قذافی کے سامنے محاذ تشکیل دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈکٹیٹروں کی حکومت کا زمانہ اب ختم ہو چکا ہے اور اس وقت عرب ممالک میں عوام اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اس بات میں اب کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہ گيا ہے کہ ان ملکوں میں آمرانہ نظام تبدیل ہو کر رہے گا اور عوام کی امنگوں کے مطابق عوامی اور جمہوری حکومتیں تشکیل پائيں گي۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو امریکہ نے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے عرب ملکوں میں عوامی تحریکوں کے بارے میں دہری پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ ایک طرف تو وہ عوامی احتجاج اور مظاہروں کے باعث عوام کے جمہوری حقوق کی حمایت کرنے پر مجبور ہے تو دوسری طرف وہ ایسے ڈکٹیٹروں کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے کہ جن سے اس کے مفادات وابستہ ہیں۔ بحرین وہ پہلا عرب ملک تھا کہ جہاں عوام نے ڈکٹیٹر کی حکومت کے خلاف احتجاج شروع کیا اور کئي دہائیوں سے ملک پر قابض آل خلیفہ خاندان کی غیرجمہوری حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ امریکی حکومت اور مغربی ذرائع ابلاغ نے عرب ممالک میں جاری دیگر تحریکوں کے برخلاف اس بارے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔ امریکی حکومت کو امید ہے کہ آل خلیفہ خاندان بحرین کے عوام کی تحریک پر قابو پا لے گا۔ اس لیے کہ بحرین میں امریکہ کے مفادات ہیں اور اس کے کئي ہزار فوجی وہاں تعینات ہیں اور وہ اس علاقے کی تیل کی دولت کو لوٹنے کے لیے وہاں اپنی فوجی موجودگي کو ضروری سمجھتا ہے اسی لیے وہ بحرین میں عوامی تحریک کی حمایت سے گریزاں نظر آتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110