بسمہ تعالی
ایک دل کی ضرورت ہے
۷مارچ ۲۰۱۱ کو سرزمین انقلاب اور منطقہ علم و اجتہاد یعنی سرزمین قم میں "ادارہ امید" کے زیر اہتمام سفیر انقلاب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی برسی منائی گئی۔ "ادارہ امید" کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس ادارے نے اپنے قیام سے لے کر اب تک تقریباً گزشتہ پانچ سالوں میں مختلف علمی و فکری موضوعات پر متعددسیمینارز منعقد کروائے ہیں جن میں صاحبان علم و معرفت اور ارباب دانش و اجتہاد نے گفتگو کی ہے۔اس مرتبہ شہید ڈاکٹر کی برسی سے "آقای پناہیان" اور وحدت مسلمین پاکستان کے جنرل سیکرٹری آقای ناصر عباس جعفری نے خطاب کیا۔
گفتگو کے دوران مقررین نے جہاں بین الاقوامی صورتحال پر گفتگو کی وہیں پاکستان کے مسائل اور شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی خدمات اور طریقہ کار کو بھی زیربحث لایاگیا۔سہ پہر چار بجے شروع ہونے والی یہ برسی یوں تو چار گھنٹوں کے اندر ہی ختم ہوگئی لیکن اس برسی کی وساطت سے کئی ازہان کو از سر نو تجدید فکر کا موقع ملا،کئی دل دوبارہ راہ شہدا سے متصل ہوئے اور کئی دماغ عہد گزشتہ میں موجزن ہوکر مستقبل کے لئے غوروفکر کرنے لگے۔
برسی کے بعد دماغ مسلسل ان خیالوں میں گم ہےکہ
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل ، جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے، وہ کھلا رہے صدیوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
پھر خیالوں میں ہی میں نے کانپتی آواز،لرزتے بدن اور تھرتھراتے ہاتھوں کے ساتھ کاغذوں کو ٹٹولتے ہوئے ایک مریض کو دیکھا جو فائلوں کے انبار میں سر کھپارہاتھا ، وہ بیماری کی حالت میں بھی دوسروں کی مسیحائی کے دردمیں تڑپ رہاتھا،دوسروں کے درد میں اپنی بیماری کو بھول جانے والا یہ بیمار مسیحا جب ااستمبر ۱۹۴۸ کو ایک خراب ایمبولینس میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ گیا تو تاریخ نے سنہری حروف کے ساتھ اپنے ماتھے پر اس کی یاداشت ان الفاظ کے ساتھ ثبت کرلی کہ ملت اسلامیہ کا یہ بطل جلیل "محمد علی جناح"اپنے درد کو چھپاکر قوم کے دردوں کی مسیحائی کرتے کرتے دم توڑ گیاہے۔
محمد علی جناح کے بعد مجھے وہ ڈاکٹر بھی یاد آیا جو اپنی قوم کے دکھوں کا مداوا کرنے کے درد میں اس طرح بلبلارہاتھا کہ لوگ اس کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے اور اس کے خوابو ں کو دیوانے کا خواب کہتے تھے لیکن جب ۱۴ اگست ۱۹۴۷کو دنیا کے نقشے پر سرزمین پاکستان کا وجود ابھرا تو خوشی کے مارےچشم فلک سےٹپکتے ہوئے آنسووں نے آفاق ہستی پہ یہ لکھ دیا کہ "آج دنیا ء اسلام کے درد میں بلبلانے والے ڈاکٹر اقبال کا خواب سچا ثابت ہوگیاہے"۔
ڈاکٹر اقبال کے بعد مجھے ایک اور ڈاکٹر کی یاد آئی جس نے ایسے وقت میں ملت کی بد نظمی اوراستعمار ی بالادستی کا درد محسوس کیا جب دنیامیں استعمار کا کوئی حریف نہیں تھا،استعمار کی چاکری کو فخر کا باعث سمجھاجاتا تھا،کہیں اسٹڈی سرکلز کا نام و نشاں نہ تھا،کہیں ملی اتحاد قومی وحدت اور بین الاقوامی اسلامی برادری کاقابل ذکر اور فعال پلیٹ فارم نہ تھا،لوگ اس ڈاکٹر کی باتوں کا بھی مذاق اڑاتے تھے اور اس کے خوابوں کو بھی دیوانے کا خواب کہتے تھے لیکن جب اس ڈاکٹر کی محنت شاقہ "آئی ایس او پاکستان" کی صورت میں رنگ لائی تو عربستان سے لے کر غربستان تک ایک ہی آواز گونجنے لگی کہ ڈاکٹر محمد علی نقوی نے وہ کر دکھایاہے جسے بہت سارے لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔
ڈاکٹر نقوی نے فکری بیداری اور ملی شعور کی خاطر جو چراغ جلایاتھا ،آج اس چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہوچکے ہیں،آج ہزاروں لوگ ڈاکٹر کی طرح بننے ،سوچنے،لکھنے،بولنے اور کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یعنی آج ہزاروں لوگ ڈاکٹر کے نقش قدم پر چل کر ڈاکٹر بننے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن اس کے باوجود جو کام اکیلے ڈاکٹر نے کیا تھا وہ ہزروں لوگوں سے بھی ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔
ڈاکٹر فاصلوں کو سمیٹتے ،مقام و القابات کو خاطر میں نہیں لاتے ،فٹ پاتھ پر سو جاتے ،دشمنوں کو دوست بناتے ،جو دور ہوں انہیں قریب لاتے ،جوبد ظن ہوں ان کی بد گمانیاں دور کرتے ،جو بد چلن ہوں ان کی اصلاح کے لئے کوشاں رہتے ،جو بے شعور ہوں ان کے فکری شعور کو اوپر لانے کے لانے کئے منصوبہ بندی کرتے اورجو بے حس ہوں ان کے دلوں میں درد و معرفت کی شمعیں روشن کرتے تھے۔
ڈاکٹر جب تک زندہ رہے وہ قوم کے درد میں بیمار رہے اور جب ۷ مارچ کو گولیوں کی زد میں آئے تو ان کے بعد قوم کے دردوں میں اضافہ ہی ہوتاگیا ۔
آئیے ڈاکٹر کی یاد میں قوم کی مسیحائی کا عزم کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر کی طرح قوم کی خاطر بیمار ہونے کا عزم بھی کرتے ہیں۔اپنا سکون،آرام،علم ،ہنر،کرسی،مقام،قلم ،کاغذ اور القابات … سب کچھ قوم کے قدموں میں لا کر رکھ دیتے ہیں...لیکن یہ سب کچھ "ڈاکٹر کے نعرے "لگانے سے نہیں ہو سکتا یہ سب کچھ کرنے کے لئے "ڈاکٹر کا دل چاہیے"۔ ہر سال ۷ مارچ کوسرزمین پاکستان کے افق سے ڈوبتاہوا سرخ سورج ہم سب سے یہ پوچھتا ہےکہ تمہیں کیا ہوگیاہے ... تمہارےسینوں میں ڈاکٹر نقوی کادردمند دل کیوں نہیں دھڑک رہا...؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110