19 مارچ 2010 - 20:30

قذافی: ہم نے طاقت استعمال نہیں کی اور تشدد کرنے والے افسروں کو برطرف کیا گیا ہے۔ لیبیا کے کئی شہروں میں مظاہرین اورفورسزمیں جھڑپیں لیبیا کے کئی شہروں میں مظاہرین اورفورسزمیں جھڑپیں،مصراتا میں باغیوں کا فوجی اڈے اورائیرپورٹ پرقبضہ۔ لیبیا کے کئی شہروں میں صورت حال فوج کے قابوسے باہر ہوگئی ہے۔ مصراتا میں باغیوں نے مقامی ریڈیواسٹیشن اورایرپورٹ پرکنٹرول حاصل کرلیا۔ اسلحہ ڈبوؤں سمیت فوجی اڈے کے بڑے حصے پرقبضے کا بھی دعویٰ کیاگیا ہے جبکہ فوج کی فائرنگ سے دوافرادہلاک ہوگئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق طرابلس میں نیوزکانفرنس میں نائب وزیرخارجہ خالد قائم نے کہا کہ شورش زدہ شہروں میں اگر باغیوں سے مذاکرات ناکام ہوگئے توطاقت کااستعمال کیاجائے گا۔ (گویا لیبیا کے انقلاب کے آغاز سے اب تک ہزاروں افراد برڈ فلو کا شکار ہو کر مرے ہیں!)بن غازی کے ایک اخبارکے مطابق قذافی نے مظاہرین پروحشیانہ کریک ڈاؤن میں ملوث انٹیلی جنس چیف عبداللہ السینوسی کوبرطرف کرکے اپنے باڈی گارڈ منصورالقہاسی کونیا چیف مقررکردیا ہے۔ (گویا کہ قذافی کا حکم نہ ماننے والے 135 سپاہیوں اور افسروں کو مختلف غیر انسانی روشوں سے قتل کرنے کے واقعات سب جھوٹے ہیں لگتا ہے کہ سینوسی ان کی مرضی کے مطابق ہزاروں افراد کا خون بہانے سے انکاری تھا چنانچہ انھوں نے اپنے سفاک محافظ کو یہ منصب سونپا ہے تاکہ وہ زیادہ تسلی سے لوگوں کا خون بہائے ابھی کچھ ہی روز قبل قذافی نے عوام کو دھمکیاں دیں اور تقریر کے دوران کہا کہ "ہم نے عوام کے خلاف طاقت استعمال نہیں کی اور اگر ضرورت پڑے تو طاقت کا استعمال بھی کریں گے" اور پھر تقریر کے دوران ہی کہا کہ "فوجیوں سے کہہ دو کہ فائرنگ میں وقفہ دیں تا کہ لوگ میری باتیں سن سکیں" اور کوئی بھی نہیں بھولا کہ لیبیا کے دو ہوابازوں نے دو میراج ایف 1 طیارے بحیرہ روم کے جزیرے مالٹا میں اتارے کیونکہ انہیں عوام پر بمباری کا حکم ہوا تھا اور دو ہوابازوں نے ایس یو 22 طیارہ بنغازی میں فضا میں ہی چھوڑ دیا اور پیرا شوٹ کے ذریعے زمین پر اترے اور کل ہی جنوبی لیبیا کے انقلابی فورسز نے ایک حملہ آور طیارے کو مارگرایا اور یہ بات آن دی ریکارڈ ہے کہ مختلف افریقی ممالک سے ہزاروں کرائے کے قاتل لیبیائی عوام کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں اور انہیں روزانہ دوہزار ڈالر تنخواہیں قذافی کے بیٹوں کے ہاتھوں سے مل رہی ہیں اور ان میں سے جو شخص ایک انقلابی کو مارے اس کو 900 یورو کا خصوصی انعام ملتا ہے اور دسیوں کرائے کے قاتل انقلابیوں کی قید میں ہیں)۔ امریکی ٹی وی کوانٹرویومیں معمرقذافی نے اس الزام کومستردکردیا کہ مظاہرین پرایرفورس نے بمباری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ طیاروں نے فوجی ا ڈوں پربمباری کی تھی۔ (انھوں نے البتہ یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ان کے بقول ہوائی اڈوں پر بمباری میں کتنے لوگ مارے گئے اور وہ کون تھے؟)قذافی نے کہا: اقوام متحدہ لیبیا کی صورت حال پر’فیکٹ فائنڈنگ مشن‘بنائے۔ قذافی نے شکوہ کیا کہ لیبیاالقاعدہ کے خلاف جنگ میں مغربی ملکوں کا اتحادی تھا لیکن انھوں نے ساتھ چھوڑ دیا اور وہ لیبیا پرقبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ (ہم سب جانتے ہیں کہ امریکی اکثر و بیشتر القاعدہ کی سرگرمیوں کا شوشہ چھوڑ کر ملکوں پر حملے کیا کرتا ہے اور قذافی کو اس بات کا بخوبی علم ہے چنانچہ انھوں نے امریکیوں اور یورپیوں کو ورغلانے کے لئے لیبیا کی انقلاب کو القاعدہ سے منسوب کیا جبکہ امریکہ سے بہتر کون جانتا ہے کہ القاعدہ کب اورکہاں فعالیت دکھاتی ہے؟ کیونکہ القاعدہ تو اسی وقت فعال ہوجاتی ہے جب امریکیوں کو اس کی ضرورت ہوتی ہے!)۔انھوں نے کہا امریکی صدر باراک اوباما اچھے آدمی ہیں لیکن ہو سکتا ہے لیبیا کی صورت ِحال سے متعلق انھیں غلط اطلاع دی گئی ہو۔ادھراوول ہاؤس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے امریکی صدرباراک اوباما سے ملاقات کی جس کے بعد امریکی سفیرسوزن رائس نے میڈیا کوبریفننگ میں بتایا کہ ملاقات میں لیبیاکے خلاف عالمی کوششوں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ان کا کہنا تھا سلامتی کونسل نے لیبیا کی صورت حال پرپہلی مرتبہ عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اب معمر قذافی کو اقتدار چھوڑنا پڑے گا۔ امریکی اخبار کے مطابق امریکا نے لیبیا کے30 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کردیے ہیں۔عرب ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے بحری بیڑوں کو لیبیا کی سمندری حدود کے قریب ہونے کا حکم دے دیا ہے۔