اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز تہران میں لیبیائی سفارتخانے کے سامنے مختلف طلبہ تنظیموں سے وابستہ طلبہ نے لیبیا کی عوام کی نسل کشی کی خاتمے، 30 سالہ اسارت کے بعد امام موسی صدر کی رہائی اور لیبیائی سفیر کو ایران سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا۔
طلبہ نے لیبیا کے سفاک آمر کی پھانسی کا مطالبہ کیا۔
طلبہ "قذافی مردہ باد"، "امریکہ مردہ باد"، "اسرائیل مردہ باد"، "کرنل کے سفیر کو نکال دو"، "برطانیہ مردہ باد"، "نہ ساز باز نہ تسلیم جنگ جنگ کامیابی تک" اور "قذافی کی آمریت سے سفارتی تعلقات توڑ دو" جیسے نعرے لگار ہے تھے۔
اہم نکات:
* ہم خطے کے ممالک میں شروع ہونے والے اسلامی انقلابات اور عوامی مزاحمتوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
* لیبیائی عوام نے قذافی آمریت کے خلاف حق طلبی کی آواز اٹہائی اور ملک پر مسلط ظالم اور بیرونی قوتوں کے سامنے ذلیلانہ رویہ اپنانے والے آمر کے خلاف اٹھ چکے ہیں ایسے میں خونخوار قذافی کے ہاتھوں ہزاروں انسانوں کا قتل دنیا کے تمام حریت پسندوں کے غم و غصے کا باعث ہوا۔
* لیبیا میں قذافی کے اقدامات مسلمہ طور پر انسانی حقوق کے خلاف اقدام ہے اور یہ اقدام در حقیقت ایک منحوس ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت مغربی ممالک دنیا کے بیدار ہونے والے مسلمانوں کی سرکوبی کی ناکام کوشش کررہے ہیں اور ان اقدامات کا مقصد لیبیا سمیت دیگر اسلامی ممالک کے عوام کو خوفزدہ اور مأیوس کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
* آج دنیائے اسلام میں اسلامی بیداری مغرب سے وابستہ اور صہیونی ریاست کے ساتھ ساز باز کرنے والے حکام کو یکے بعد دیگرے سرنگون کررہی ہے اور ایسی صورت میں صرف وہی حکومتیں قائم و دائم رہ سکتی ہیں جو حضرت امام خمینی (رحمةآللہ علیہ) کے ان دو اصولوں پر کاربند اور مُصِرّ ہوں:
ـ استکبار و استعمار کے خلاف جہاد
ـ اسلام خواہی اور اسلام پسندی
* ہم لیبیائی آمر کے مجرمانہ اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور لیبیائی عوام، شہداء کے خاندانوں اور پوری دنیا کے حریت پسندوں سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے بیں الاقوامی اداروں اور تنظیموں سے لیبیائی آمر کے جرائم کے بارے میں تحقیقات کرکے ان کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
* ان ممالک کے علماء اور عام مسلمان اللہ کی آیات کی بنیاد پر اسلام سے اپنی وفاداری کو اپنے عمل اور کردار میں سرفہرست قرار دیں کیونکہ یہی موضوع عوام کے ساتھ ہمراہی کا سرچشمہ ہے اور اگر علماء اور عام مسلمان اس بنیاد پر انقلابیوں کا ساتھ دیں گے اور اسلامی کیاست کا دامن تھامیں گے تو ڈکٹیٹر حکمرانوں، امریکہ اور صہیونی ریاست کے فتنے ناکام ہوجائیں گے۔
* ہمیں امید ہے کہ ڈکٹیٹر کرنل قذافی کی آمریت جلد از جلد سرنگون ہو کیونکہ وہ امام موسی صدر کے اغوا کے کیس کا اصلی ملزم ہے۔
* ہم طلبہ تنظیموں نے امام موسی صدر کی استقبال کے لئے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں اور ان کی رہائی کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے ان کی آزادی کے لئے سرکاری سطح پر وسیع کوششوں کا تقاضا کرتے ہیں۔
اس اجتماع اور مظاہرے میں ملک کی مختلف جامعات، طلبہ کی اسلامی انجمن، مستقل طلبہ کی اسلامی انجمن اور طلبہ کی اسلامی سوسائٹی نے شرکت کی تھی۔
طلبہ نے لیبیائی سفارتخانی کے سامنے مظاہرہ کرنے سے قبل تہران میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے بھی مظاہرہ کیا۔
طلبہ نے کرنل قذافی کے ہاتھوں لیبیائی عوام کی نسل کشی اور ان جرائم کے سامنے بین الاقوامی تنظیموں کی خاموشی پرکڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے لیبیائی عوام کے قتل عام کے فوری طور پر خاتمے اور امام موسی صدر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
طلبہ نے پٹیاں سروں پر باندھ رکھی تھیں جن پر "لبیک یا خامنہ ای" کا جملہ لکھا ہوا تھا اور انھوں نے بحرین اور لیبیا کے اسلامی انقلاب کے شہداء کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں اور لیبیا کے آمر قذافی اور بحرین کے سفاک حکام کے وحشیانہ اقدامات پر تنقید کر رہے تھے۔
طلبہ، اقوام متحدہ کے سامنے 'ہیہات منالذلہ'، 'مردہ باد امریکہ' اور 'مردہ باد برطانیہ' جیسے نعرے لگارہے تھے۔
طلبہ اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرنے کے بعد لیبیا کے سفارتخانے کی جانب چل پڑے۔
.......
/110
24 فروری 2011 - 20:30
News ID: 228178
ایرانی طلبہ نے لیبیائی عوام کی نسل کشی امام موسی صدر کی رہائی اور لیبیائی سفیر کو ملک سے فوری طور پر نکال پھینکنے، لیبیا کی عوام کی نسل کشی کی خاتمے اور لیبیا کے سفاک آمر کی پھانسی کا مطالبہ کیا۔