22 فروری 2011 - 20:30

لیبیا کی اپوزیشن پارٹی کے رہنما محمد جبرئیل نے کہا ہےکہ دارالحکومت طرابلس میں فوج عوام کے ساتھ مل گئي ہے اور فوج و عوام نے مل کر طرابلس کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

ابنا: ادھر مختلف ملکوں میں لیبیا کے سفرا استعفی دیکر قذافی کے اقتدار سے ہٹنے کا مطالبہ کررہےہیں۔اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفیر ابراہیم دباشی نے کہا ہے کہ قذافی پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مختلف ملکوں سے مطالبہ کیا کہ قذافی کو پناہ نہ دیں۔ ادھر بنگلادیش میں لیبیا کے سفیر نے عوامی انقلاب کی حمایت کرتےہوئے استعفی دیدیا ہے جبکہ ملیشیا میں لیبیا کے سفارتخانے کے کارکنوں نے قذافی کے خلاف احتجاج کیا ہے اور قذافی کے وحشیانہ اقدامات کی مذمت کی ہے۔ واشنگٹن میں بھی لیبیا کے سفیر نے قذافی سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہےکہ قذافی کو جلد از جلد اقتدار سے ہٹ جانا چاہیے۔ ہندوستان میں بھی لیبیا کے سفیرنے استعفی دیدیا ہے۔لیبیا کی فوج کے افسروں نے فوجیوں سے اپیل کی ہےکہ عوام کے ساتھ مل جائيں۔ فوجی افسروں نے کہا ہےکہ قذافی کو ملک سے نکالنے کے لئے طرابلس کی طرف بڑھیں۔...../110