اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق موصولہ رپورٹ کے مطابق آج طرابلس پر انقلابیوں کے قبضے کے بعد لوگوں نے صدارتی محل کو گھیرے میں لیا تھا جس کے بعد معمر قذافی صدارتی محل چھوڑ کر ہوائی اڈے پہنچے اور وہاں سے یورپ کی جانب روانہ ہوئے جس کے بعد رائٹرز نے اطلاع دی کہ لیبیائی فضائیہ کے دو میراج لڑاکا طیارے یورپ کے چھوٹے ملک مالٹا کے ہوائی اڈے پر اترے ہیں اور خیال کیا جارہا ہے کہ لیبیائی آمر ان ہی جہازوں کے ذریعے فرار ہوگئے ہیں۔ اس سے قبل الجزيرہ نے رپورٹ دی تھی کہ لیبیا کے شہر طرابلس پر مظاہرین کا قبضہ ہوگیا ہے اور لیبیا کے ڈکٹیٹر صدر کرنل قذافی ایک ہوائی جہاز کے ذریعے ونزوئلا فرار ہوگئے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ وہ برازیل بھاگ گئے ہیں مگر بعد میں دونوں ملکوں کے حکام نے اس کی تردید کردی تھی۔

طرابلس پر عوام کے قبضے کا واقعہ ایسے حال میں رونما ہوا ہے کہ قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے لوگوں کو دھمکیاں دین اور کہا کہ: یا لوگ مذاکرات کے لئے تیار ہوجائیں یا پھر موت کے لئے۔اقوام متحدہ، لندن، دھلی، سویڈن، چین، عرب لیگ، انگلیس، انڈونیشیا، پولینڈ اور مالٹا میں لیبیائی سفیروں نے حکومت سے علیحدگی عوامی تحریک کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق لیبیائی فضائیہ کے بمبار طیارے طرابلس میں عوام پر بم برسا رہے ہیں اور شہداء کی تعداد 400 سے تجاوز کرگئی ہے۔
۔۔۔۔۔
تازہ ترین اطلاع کے مطابق مالٹا کے ایئرپورٹ پر اس ملک کی پولیس نے دو میراج طیاروں اور دو ہیلی کاپٹروں کا محاصرہ کررکھا ہے۔ جبکه مالٹا کے عوام لیبیائی سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ کرکے قذافی کو اس ملک میں پناہ نہ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
......
ایک رپورٹ کے مطابق شہداء کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ نوجوانوں کو قتل کرنے کے لئے کئی جنگی یونٹس بھیجے گئے ہیں جو القاعدہ دہشت گردوں کے طرز پر نوجوانوں کے ہاتھ پیچھے سے پکڑ کر ان کے سروں میں گولیاں مارتے ہیں اور شہداء کی تعداد سینسر اور ٹیلی فون و انٹرنیٹ کنکش منقطع ہونے کی وجہ سے صحیح طور پر معلوم نہیں ہورہی جبکہ کہا جارہا ہے کہ ممکن ہے کہ سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد لیبیا میں قربان ہوگئے ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
صدارتی محل کے قریب واقع فوجی چھاؤنی میں موجود تمام فوجی عوامی تحریک میں شامل ہوگئے ہیں اور انقلابی نوجوان بھی مسلح ہورہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
دارالحکومت طرابلس میں جنگی صورت حال ہے اور فضائیہ کے طیارے عوام کا قتل عام کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صرف آج طرابلس میں جنگی اریوں کے نتیجے میں 250 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مالٹا میں اترنے والی لیبیائی فضائیہ کے میراج لڑاکا طیاروں میں آمر معمر قذافی موجود نہیں تھے۔
اطلاعات کے مطابق فضائیہ کے ان جہازوں کے ہوابازوں کو عوام پر بمباری کے احکامات دیتے گئے تھے لیکن وہ بمباری کی بجائے ملکی حدود سے نکل گئے اور مالٹا سے سیاسی پناہ کی درخواست کردی۔
.....
لیبیا کے مغربی کوہستانی علاقوں اور زوارہ نامی شہر میں رہنے والے آمازیک قبائل نے آج لیبیا کی انقلابی قوتوں سے یکچہتی اور قذافی ظالم آمریت کے خلاف احجاجی اقدامات میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قذافی کے بھاگ جانے کے بارے میں مختلف خبریں آگئی ہیں اور مغربی ذرائع نے بھی کوئی قطعی اطلاع نہیں دی ہے لیکن مغربی ذرائع کے مطابق قذافی کے فرار کی اطلاعات کی وجہ سے دنیا میں تیل اور سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
/110