ابنا: مصر و تیونس کےانقلاب کو دیگرعرب ممالک میں بڑھنے سے روکنے کے لئے امریکہ کی طرف سےمشرق وسطی میں اپنے اتحادی عرب ممالک پر سیاسی اور اقتصادی اصلاحات انجام دینے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ اخبار کے مطابق امریکہ نہیں چاہتا کہ مصر و تیونس کے بعد اپنے دیگرعرب ساتھیوں کو علاقہ میں کھو دے۔ اسی لئے حسنی مبارک کے جانے کے ایک دن بعد باراک اوبامہ نے اردن کے شاہ عبد اللہ دوم سے کہا ہے کہ وہ اردن میں مزید اصلاحات انجام دیں ۔ اخبار کے مطابق علاقائی عرب حکام اس لحظہ کو ہر گز فراموش نہیں کریں گے جب امریکی صدر اوبامہ نے حسنی مبارک کے لئے کہا کہ مبارک کے جانے کا وقت آگیا ہے۔ لہذا امریکہ کے بارے میں اب دیگر عرب ممالک کے رہنماؤں میں بھی عدم اعتماد پیدا ہورہا ہے کہ امریکہ کسی بھی وقت ان کا ساتھ چھوڑ سکتا ہے۔ لیکن امریکہ اب اپنے عرب رہنماؤں میں اپنا اعتماد پیدا کرنے کے لئے تلاش و کوشش میں مصروف ہوگیا ہے اپنے ساتھیوں کو امریکی حمایت کا یقین دلا رہا ہے لیکن اس کے باوجود سعودی حکام پر خوف و ہراس طاری ہے کیونکہ سعودی بادشاہ عبد اللہ نے حسنی مبارک کو بچانے کے لئے امریکہ سے درخواست کی تھی لیکن امریکہ نے سعودی درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی اور مصری فرعون کو بچآنے کی سعودی کوشش ناکام ہوگئی اب عرب سمجھ رہے ہیں کہ جب امریکہ عوام کے سامنے کچھ نہیں کرسکتا تو اگر ان کے عوام ان کے خلاف کھڑے ہوگئے تو وہ کیا کریں گے ؟ یہ سوال امریکہ نواز عرب رہمناؤں کی پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔
........
/110