ابنا: عوام نے ان شاندار اور تاریخ ساز ریلیوں میں شرکت کرکے اپنے اتحاد و یگانگت کا پیغام پوری دنیا تک ایک بار پھر پہنچایا اس سلسلے کی سب سے بڑی ریلی دارالحکومت تہران میں نکالی گئی ملت ایران نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بتیس برس بعد آج ایک بارپھر جس انداز سے انقلابی اقدار اور امام خمینی(رح) اور ان کے جانشین، رہبرانقلاب اسلامی سے تجدید عہد و وفا کیا ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انقلاب کی کامیابی گویا کل کی ہی بات ہے ۔اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندے ایران کی انقلابی قوم کے جذبہ انقلاب و استقامت کو اپنے اپنے کمیروں میں قید کرنے کے لئے تہران اور دیگر شہروں میں موجود تھے ۔ہمارے نمائندوں نے بتایا ہے کہ صرف تہران میں چار سو غیر ملکی اخباری نمائندے اور ٹی وی چینلوں کے رپورٹرز موجود تھے ۔گیارہ فروری انیس اناسی کو ایران کا اسلامی انقلاب حضرت امام خمینی کی زیرقیادت اور ایرانی عوام کے اتحاد و یکجہتی کے زیرسایہ کامیابی سے ہمکنار ہوا وہ انقلاب جسے مغربی نظریہ پردازوں نے تو سیاسی زلزلہ سے تعبیر کیا مگرساتھ ہی اسلامی مفکروں نے اسے اسلام کی نشاۃ ثانیہ قرار دیا جس کا اثر آج بتیس سال گذرجانے کے بعد مشرق وسطی اور شمالی میں بخوبی دیکھنے کو مل رہا ہے۔آج اسی اسلامی انقلاب کے اثرات کی ہی وجہ سے ایک نیا اسلامی مشرق وسطی معرض وجود میں آيا ہی چاہتا ہے ۔ انقلاب نے اپنے اثرات نہ صرف مسلم دنیا پر بلکہ چونکہ یہ انقلاب مستضعفین کی حمایت اور سامراج کی مخالفت کے نعروں کے ساتھ شروع ہوا تھا آج امریکہ کی سرحدوں کے قریب تک اس نے اپنا گہرا اثر مرتب کردیا ہے۔چنانچہ آج کیوبا، ونزوئیلا، اکواڈور اور بولیویا جیسے ملکوں میں عوام کی ایسی منتخب کردہ حکومتيں برسر اقتدار آگئي ہيں جو امریکہ کی زیر سرکردگي عالمی سامراج کی سخت مخالف ہيں ۔آج ملت ایران نے اپنے اسلامی انقلاب کی بتیسويں سالگرہ کا جشن ایک ایسے عالم میں منایا ہے کہ جس کے پاس گذشتہ بتیس برسوں کے انتہائی گرانقدر تجربات ہيں ایسے تجربات جو نہ صرف ملت ایران کے لئے ہيں بلکہ ان تمام لوگوں کے لئے اہمیت رکھتے ہیں جو اسلامی انقلاب کو درک کرتے اور سمجھتے ہيں ۔اسلامی انقلاب کے اثرات پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہيں تو اس بات کا بخوبی مشاہدہ ہوتا ہے کہ اس کا ایک تقدیر ساز اثر یہ ہے کہ اس نے لوگوں ميں سیاسی شعور و آگہی پیدا کی ہے ، خاص طور پر مسلم اقوام میں اسلامی بیداری آج اسی انقلاب کی وجہ سے ہی موجزن نظر آرہی ہے ایسی اسلامی بیداری کہ جس کی اصل ماہیت تسلط پسندی کی نفی اور سامراجی طاقتوں کے سامنے ڈٹ جانا ہے، یہ وہ پیغام ہے جو بہت تیزی کے ساتھ اقوام عالم تک پہنچ رہا ہے ۔ بالخصوص مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے عوام میں جس نے پوری گہرائی کے ساتھ گھر کرلیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج بتیس سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی نہ صرف یہ کہ اس انقلاب کی چمک ماند نہيں پڑی بلکہ اس نے جو جذبہ و ولولہ تین عشروں قبل پیدا کیا تھا وہ اپنے آفاقی والہی پیغام کے ذریعہ جوانوں اور بچوں میں کہیں زیادہ موجزن نظر آرہا ہے ۔ایران میں ہم جس طرف بھی دیکھتے ہیں جوان اور بوڑھے سبھی خوداعتمادی اور جوش و جذبے سے سرشار نظرآرہے ہيں اس کا سب سے بڑا اور منہ بولتا ثبوت آج انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کی مناسبت سے نکالی گئيں شاندار تاریخ ساز ریلیاں ہيں ۔اس ميں شک نہیں کہ اسلامی انقلاب نے ایسے نظریات اور تھیوریاں پیش کی ہيں جو اقوام عالم کی انصاف پسندانہ آرزؤں اور خواہشات کو عملی جامہ پہناتی ہیں اور اسی نظریہ کی ہی بنیاد پر آج اسلامی جمہوریہ ایران دنیا میں جہاں بھی انصاف پسندی اور ظلم کے خاتمے کے لئے قدم اٹھایا جاتا ہے اس کا خیرمقدم کرتا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران آج کی دنیا کو ایک ایسی دنیاسمجھتا ہے جس میں سب ایک دوسرے سے وابستہ اور سب کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اسی لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی استقامت، استقلال اور عزت و وقار پوری دنیا کے لوگوں کے لئے بہت ہی جاذب و پرکشش نظرآتی ہے اور ظلم کے خلاف اٹھنے والی سبھی تحریکيں ایران کے اسلامی انقلاب سے ہی الہام لے رہی ہیں ۔اسی لئےاگر آج بڑی طاقتیں جن کی ماہیت تسلط پسندانہ اور سامراجی ہیں ایران کے اسلامی نظام سے دشمنی کرتی ہیں تو اس میں کسی کو تعجب بھی نہیں ہونا چاہئے۔ مگر ایران کے اسلامی انقلاب کے اس تنو مند شجرہ طیبہ کا سایہ ایران سے باہر کی سرحدوں میں تیزی کے ساتھ محیط و بسیط ہوتا جارہا ہے ۔جس کی تازہ مثال ان دنوں تیونس اور مصرکے عوام کی ظلم و استبداد مخالف تحریکیں ہيں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110