8 فروری 2011 - 20:30

پاکستان کے شہر لاہور میں ایک امریکی باشندے ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو نوجوانوں کے قتل کے بعد عوام میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ بار بار اپنے شہری کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ امریکی شہری نے اپنے دفاع میں دو افراد کو قتل کیا ہے اور اسے سفارتی استثنا حاصل ہے، پاکستان نے غیرقانونی طور پر اسے حراست میں رکھا ہوا ہے لہذا اسے رہا کر کے امریکہ کے حوالے کیا جائے۔

ابنا: اسی سلسلے میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے گزشتہ روز دوسری مرتبہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور ریمنڈ ڈیوس کی غیرمشروط رہائی کامطالبہ کیا۔ پاکستان کی حکومت پر اس سلسلے میں امریکہ کا بہت زیادہ دباؤ ہے اور وہ تذبذب کی حالت میں ہے اور اس کے لیے موجودہ حالات میں کہ جب رائے عامہ اس بارے میں بہت ہی حساس ہو چکی ہے اور عوام غم و غصے میں بھرے بیٹھے ہیں، ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرنے کا فیصلہ کرنا آسان کام نہیں ہے اور حکومت جو پہلے ہی مختلف مسائل پر اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے سخت دباؤ میں ہے، ایسے موقع پر ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر کے مزید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے اور اسی لیے وہ یہ کہہ کر اپنے آپ کو اس معاملے میں بچانے کی کوشش کر رہی ہے کہ معاملہ عدالت میں ہے اور وہی اس کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔اس درمیان جو سب سے اہم سوال ہے وہ یہ ہے کہ کیا ریمنڈ ڈیوس ایک سفارت کار ہے کہ اسے سفارتی تحفظ حاصل ہو؟ اب تک امریکہ نے اس سلسلے میں متضاد بیانات دیے ہیں اور ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کیا واقعی وہ سفارت کار تھا؟ یا سفارت کار کے بھیس میں خفیہ ادارے کا جاسوس یا سکیورٹی کمپنی کا اہلکار جو خفیہ مشن پر پاکستان میں تھا۔ اگر سفارت کار تھا تو جعلی نمبر پلیٹ کی گاڑی میں کیوں گھوم رہا تھا؟ اس کے پاس مختلف نقشے اور حساس دستاویزات کیوں تھیں؟ اس سے ملنے والی موبائل فون کی پانچ سموں کے ریکارڈ سے پتہ چلا کہ جنوبی وزیرستان کے دینی مدرسوں سے اس کے روابط تھے اور وہ وہاں کئي مرتبہ جا چکا ہے۔ اس نے اگر اپنے دفاع میں گولیاں چلائیں تو وہ دونوں نوجوانوں کی پیٹھ میں ہی کیوں لگیں؟ کیا دونوں نوجوانوں نے اس پر پہلے فائرنگ کی تھی؟ امریکی باشندے نے دونوں کو قتل کرنے کے بعد پولیس کو بلانے کے بجائے ان کی تصویریں کیوں بنانا شروع کر دیں؟ اور پھر موقع واردات سے کیوں فرار ہوا؟ دوسری امریکی گاڑی نے جس نوجوان کو کچلا وہ پولیس کے حوالے کیوں نہیں کی جا رہی اس کا ڈرائیور کہاں ہیں؟ نوجوان عبادالرحمن کو کچل کر مارنے والے قاتل کے بارے میں بات کیوں نہیں کی جا رہی؟ نوجوان فہیم کی بیوہ کا خون کس کے سر ہے؟ یہ چند ایسے سوالات ہیں کہ جن کے جوابات کا ہر حقیقت پسند انسان کو انتظار ہے۔ لیکن ان سوالات کا شاید ایک ہی جملے سے جواب دے دیا جائے کہ قاتل سفید فام امریکی ہے اور مرنے والے تیسری دنیا کے ایک مسلمان ملک پاکستان کے باشندے! اب امریکہ نے اپنے شہری ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے کھل کر پاکستان پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے اور اس نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا نہ کیا تو اس کی اقتصادی اور فوجی امداد بند کر دی جائے گی۔ ایک امریکی اخبار نے دعوی کیا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا نہ کرنے پر امریکی حکومت نے پاکستان کے ساتھ تمام اعلی سطح کے مذاکرات معطل کر دیے ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی آ گئی ہے۔ اور یہ بھی امکان ہے کہ رواں مہینے میں افغانستان کے مسئلے پر پاک امریکہ اور افغانستان سہ فریقی مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہو جائيں۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے جرمنی کے شہر میونخ میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ہونے والی اپنی ملاقات منسوخ کر دی تھی۔ حکومت پاکستان اس وقت ایک ایسی مشکل میں گرفتار ہو گئی ہے کہ جہاں ایک طرف امریکہ اس پر دباؤ بڑھاتا جا رہا ہے کہ وہ ریمنڈ ڈیوس کے سفارتی استثنا کو تسلیم کرتے ہوئے اسے فوری طور پر رہا کر کے امریکہ کے حوالے کرے تو دوسری طرف داخلی سطح پر ریمنڈ ڈیوس کو رہا نہ کرنے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اس مشکل سے کیسے نکلتی ہے۔ کیا وہ امریکہ کے آگے جھک کر ایک قاتل کو بغیر کسی کارروائی کے امریکہ کے حوالے کر دے گي یا اپنے ملک کے دو نوجوانوں کے قاتل کے خلاف ملک کی عدالت میں مقدمہ چلا کر اور اسے قرار واقعی سزا دے کر اپنے عوام میں سرخرو ہو گي۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110